پہلگام حملہ جھوٹ کا پلندہ، مودی حکومت کی چال ہے: عبدالخبیر آزاد
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
لاہور (خصوصی نامہ نگار) چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان /خطیب و امام بادشاہی مسجد مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد نے کہا ہے کہ علماء کرام نے ہمیشہ پاکستان کی یکجہتی، وحدت، اتحاد کیلئے کردار ادا کیا ہے۔ پہلگام حملہ جھوٹ کا پلندہ اور مودی حکومت کی چال ہے، جس کو ہم سب مسترد کرتے ہیں۔ انڈین حکومت ہمیشہ اقلیتوں کو نقصان پہنچانے اور پاکستان کے خلاف سازشوں میں ملوث رہتی ہے۔ انڈیا سندھ طاس معاہدہ توڑ کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ بھارت دباؤ ڈال کر جان بوجھ کر کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے راولپنڈی میں ڈویژنل انتظامیہ کے زیر اہتمام قومی یکجہتی کانفرنس سے صدارتی خطاب میں کیا۔ اس موقع پر نمائندہ کمشنر راولپنڈی ایڈیشنل کمشنر مسعود احمد بخاری، نمائندہ آر پی او راولپنڈی، ڈی پی او جہلم طارق عزیز سندھو، ڈی سی اٹک راؤ عاطف، ڈی سی مری ظہیر عباس شیرازی، ڈی سی چکوال سارہ حیات، ڈی پی او اٹک محمد حیات، ڈی پی او مری آصف امین، ڈی پی او چکوال احمد محی الدین، ایس ایس پی آپریشن راولپنڈی کاشف ذوالفقار،اے ڈی سی جی راولپنڈی ڈاکٹر حسان طارق ودیگرڈپٹی کمشنر و ڈی پی او صاحبان، قاضی عبدالغفار قادری،علامہ محمد رشید ترابی،مفتی اسحاق ساتی،علامہ کاظم رضا نقوی،مولانا ڈاکٹر مختار احمد ندیم،مفتی شفیق اعوان،مولانا عبدالستار نیازی، مفتی عبید اللہ قادری،مولانا سید چراغ الدین شاہ،مولانا حافظ اقبال رضوی،علامہ عارف حسین واحدی،مولانا عتیق الرحمن شاہ،مولانا عبدالظاہر فاروقی کے علاوہ ڈویژن،ڈسٹرکٹ و تحصیل امن کمیٹیوں سے تعلق رکھنے والے تمام مکاتب فکر کے جید علماء کرام و مشائخ عظام نے شرکت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ڈی پی او
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔