بھارت پاکستان میں فوجی کارروائی کر سکتا ہے، عبدالباسط
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
انڈیا میں تعینات رہنے والے پاکستان کے سابق ہائی کمشنر کا کہنا ہے کہ مودی کے حالیہ بہار میں کئے گئے خطاب کے لہجے سے سرحد پار فوجی حملے یا دیگر ٹھوس اقدامات کا اشارہ ملتا ہے، یہ کارروائی کنٹرول لائن پر ہو سکتی ہے، ہمارے حصے میں، اور پھر وہ بڑے دعوے کریں گے کہ انہوں نے لانچ پیڈز اور دہشتگرد کیمپوں کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان کے انڈیا میں تعینات رہنے والے سابق ہائی کمشنر عبدالباسط نے خبردار کیا ہے کہ پہلگام حملے کے بعد نئی دہلی کچھ دنوں کے اندر پاکستان کیخلاف فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔ عبدالباسط نے 2016 کے اُڑی اور2019 کے پلوامہ حملوں کے بعد بھارت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ بہار میں کئے گئے خطاب کے لہجے سے سرحد پار فوجی حملے یا دیگر ٹھوس اقدامات کا اشارہ ملتا ہے۔ یہ کارروائی کنٹرول لائن پر ہو سکتی ہے، ہمارے حصے میں، اور پھر وہ بڑے دعوے کریں گے کہ انہوں نے لانچ پیڈز اور دہشت گرد کیمپوں کو تباہ کر دیا، چاہے یہ ایک ہفتے میں ہو یا 15 دنوں میں، کچھ نہ کچھ ہوگا ضرور۔
عبدالباسط کا ماننا ہے کہ پاکستان کو فوری طور پر کوئی سفارتی مسئلہ درپیش نہیں، خاص طور پر سندھ طاس معاہدے کی منسوخی کے حوالے سے، تاہم بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں مزید دہشتگردانہ کارروائیوں کا امکان ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کو قانون و صورتحال میں مزید بے اطمینانی کیلئے تیار رہنا چاہیے۔ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے بھارت کے اعلان کو سابق ہائی کمشنر نے "علامتی" قرار دیا، کیونکہ بھارت کے پاس فی الحال مغربی دریاؤں کے رخ موڑنے کا کوئی بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں۔ انہوں نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ عالمی بینک، جو اس معاہدے کے ضامن اور ثالث کی حیثیت رکھتا ہے، سے رابطہ کرے اور ایک مضبوط سفارتی اور قانونی جواب تیار کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
وفاقی بجٹ 2026-27 کی تیاریوں کے ساتھ ہی قابل تجدید توانائی کے شعبے، بالخصوص سولر انڈسٹری کی نظریں حکومت کے ممکنہ ٹیکس اقدامات پر مرکوز ہیں۔
ملک میں بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں اور توانائی کے بحران کے باعث سولر توانائی کی جانب رجحان تیزی سے بڑھا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت سولر پینلز یا متعلقہ آلات پر نئے ٹیکس عائد کرتی ہے تو اس سے نہ صرف سولر سسٹمز کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ صنعت کی ترقی اور صارفین کی دلچسپی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
مزید پڑھیں: حکومت شمسی توانائی کے فروغ کے لیے پرعزم، عوام کو سولر سسٹمز پر ریلیف برقرار
بجٹ میں سولر پنیلز پر ٹیکسز میں اضافے کے حوالے سے مختلف خبریں گردش کر رہی ہیں۔
وی نیوز نے سولر انڈسٹری کے ماہرین سے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ سولر پینلز پر ٹیکس کتنے فیصد تک بڑھایا جا سکتا ہے، اور اس سے سولر پینلز کی قیمتوں پر کیا اثر پڑے گا؟
ٹیکس کی شرح بڑھی تو قیمتوں میں اضافہ ہو جائےگا، شرجیل احمداس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سولر مارکیٹ کے ماہر شرجیل احمد سلہری کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں مختلف خبریں گردش کررہی ہیں کہ آئندہ بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کی جا سکتی ہے۔ یعنی 8 فیصد فیصد اضافہ متوقع ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو سولر پینلز اور سولر سسٹمز کی قیمتوں میں کم از کم 10 سے 12 فیصد تک اضافہ متوقع ہے، جس سے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑےگا اور قابل تجدید توانائی کے فروغ کی رفتار بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
شرجیل احمد سلہری نے کہاکہ پاکستان کے برعکس دنیا کے بیشتر وہ ممالک جو موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہیں، وہاں گرین انرجی کی مصنوعات اور منصوبوں پر ٹیکس عائد نہیں کیا جاتا۔
ان کے مطابق ایسے ممالک سولر اور دیگر متبادل توانائی کے ذرائع کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹیکس چھوٹ اور مختلف مراعات فراہم کرتے ہیں تاکہ صاف اور سستی توانائی کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔
’سولر پلیٹس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے‘انجینیئر محمد حمزہ رفیع کے مطابق آئندہ بجٹ میں سولر پینلز پر 18 فیصد ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو سولر پلیٹس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
محمد حمزہ رفیع کے مطابق اگر ایسا ہو جاتا ہے تو سولر پینلز کی قیمت فی واٹ 8 سے 15 روپے تک بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں گھریلو اور کمرشل صارفین کے لیے سولر سسٹمز کی مجموعی لاگت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔
انہوں نے مزید کہاکہ قیمتوں میں اضافے سے سولر توانائی کی جانب منتقل ہونے والے نئے صارفین کی حوصلہ شکنی ہوگی، کیونکہ ملک میں پہلے ہی سولر پینلز سے منسلک حکومتی پالیسیوں نے عوام کے لیے سولر پینلز کی تنصیب کو ایک مشکل فیصلہ بنا دیا ہے۔
’ٹیکس بڑھنے کی خبروں میں سولر انڈسٹری میں تشویش‘پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے سینیئر وائس چیئرمین حسنات خان کے مطابق حکومت کی جانب سے سولر پینلز پر ٹیکس میں ممکنہ اضافے کی تجویز پر انڈسٹری میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے سولر پینلز پر موجودہ 10 فیصد ٹیکس کو بڑھا کر 18 فیصد کرنے کے دباؤ کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں، تاہم اس حوالے سے انڈسٹری کی کوشش ہے کہ قابلِ تجدید توانائی کے اس شعبے پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔
حسنات خان کے مطابق اگر ٹیکس میں اضافہ کیا جاتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر سولر سسٹمز کی قیمتوں پر پڑے گا اور صارفین کے لیے صاف توانائی حاصل کرنا مزید مہنگا ہو جائے گا۔
مزید پڑھیں: سولر، ونڈ اور ہائیڈرو پاور کے ذریعے توانائی کے حصول پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں توانائی کا بحران اور بجلی کی بلند قیمتیں پہلے ہی بڑا مسئلہ ہیں، وہاں سولر انرجی کو مزید مہنگا کرنا توانائی کے فروغ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈسٹری حکومت سے مسلسل رابطے میں ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ سولر انرجی کو ریلیف دیا جائے ورنہ کم از کم ٹیکس کو نہ بڑھایا جائے تاکہ عوام سستی اور ماحول دوست توانائی سے فائدہ اٹھا سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ٹیکس میں اضافہ سولر انڈسٹری وفاقی بجٹ وی نیوز