پانڈا بانڈ کا اجرا: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر ماساتو کانڈا سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر ماساتو کانڈا سے ملاقات کی اور پانڈا بانڈ کے اجرا کے لیے جزوی کریڈٹ گارنٹی کی فراہمی میں ADB کی معاونت کی درخواست کی۔ وفاقی وزیرِ خزانہ سے فلپ مورس انٹرنیشنل کے نائب صدر کرسٹوس ہارپانڈیتس سے ملاقات میں وزیرِ خزانہ نے فلپ مورس انٹرنیشنل سے درخواست کی کہ وہ اپنی ٹیکس تجاویز وزارتِ خزانہ کے ساتھ شیئر کریں۔ وفاقی وزیر خزانہ کی موڈیز ٹیم سے بھی ملاقات ہوئی۔ وزیرخزانہ نے حکومتی اسٹرکچرل ریفارمز ایجنڈے پر پیش رفت سے موڈیز ٹیم کو آگاہ کیا۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کو پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں کمی اورترسیلات زر میں اضافے جیسے اقتصادی اشاریے مثبت ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔