پاکستانی عثمان وزیر کے مکے‘بھارتی باکسر ایک منٹ 41سیکنڈ میں ناک آئوٹ
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
لاہور(سپورٹس رپورٹر) تھائی لینڈ کے باکسنگ ایرینا میں پاکستانی پروفیشنل باکسر عثمان وزیر نے ایک بار پھر پاکستان کا پرچم بلند کرتے ہوئے بھارتی باکسر ایسوارن ساہیتا دورتھی کو ہلے ہی رائونڈ میں صرف ایک منٹ 41سیکنڈز میں ناک آئوٹ کر دیا۔ یہ عثمان وزیر کے شاندار باکسنگ کیریئر کی 16ویں فتح ہے جس میں سے 10 مقابلے انہوں نے ناک آئوٹ کے ذریعے جیتے ہیں۔ ورلڈ سائم سٹیڈیم میں ہونے والے اس مقابلے سے قبل دونوں باکسرز کے وزن کی تقریب منعقد ہوئی جہاں عثمان وزیر کو فیوریٹ قرار دیا گیا تھا۔ عثمان نے رنگ میں داخل ہوتے ہی اپنی جارحانہ حکمت عملی سے بھارتی باکسر پر دبائو ڈالا اور دو طاقتور مکوں کے ذریعے مقابلہ ختم کر دیا۔ بھارتی باکسر ان مکوں کا مقابلہ نہ کر سکا اور رنگ میں گر پڑا جس کے بعد ریفری نے عثمان وزیر کو فاتح قرار دیا۔ مقابلے کا آغاز عثمان وزیر نے جارحانہ انداز سے کیا اور اپنے جارحانہ حملوں سے کسی بھی موقع پر حریف کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا۔ عثمان وزیر نے کیریئر کی 17ویں انٹرنیشنل فائٹ جیتی ہے اور وہ اب تک ناقابل شکست ہیں۔ 25 سالہ عثمان وزیر جو ڈبلیو بی او یوتھ ورلڈ چیمپئن، ڈبلیو بی سی مڈل ایسٹ چیمپئن اور ڈبلیو بی اے ایشین چیمپئن ہیں۔ اب تک اپنے تمام 16 پروفیشنل مقابلوں میں ناقابل شکست رہے ہیں۔ فائٹ کے بعد عثمان وزیر نے اپنی جیت کو پاکستان کے عوام اور مظلوم فلسطینوں کے نام کیا۔ انہوں نے کہا یہ فتح پاکستان کی عظیم قوم کیلئے ہے اور میں اپنے ملک کا نام ہمیشہ سربلند رکھنے کیلئے پرعزم ہوں۔ عثمان وزیر کی فتح پر استور میں اْ ن کے آبائی گاؤں میں جشن کا سماں ہے، لوگوں نے علاقائی رقص کیا۔ عثمان وزیر کے والد کا کہنا ہے کہ عثمان کی کامیابی پوری قوم کی کامیابی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بھارتی باکسر
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔