بھارتی جارحیت: ’’اس بار چائے فنٹاسٹک نہیں ، کڑوی اور ناقابلِ برداشت ہوگی‘‘
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
پشاور:
بھارتی جارحیت اور یکطرفہ متنازع اقدامات پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ اس بار چائے فنٹاسٹک نہیں ، کڑوی اور ناقابلِ برداشت ہوگی۔
اپنے بیان میں صوبائی مشیر نے کہا کہ فالس فلیگ آپریشن کے بعد مودی سرکار کی جانب سے کشمیریوں کے خلاف فسطائیت قابل مذمت ہے۔ بھارت اپنے اسکرپٹڈ ڈرامے میں معصوم کشمیریوں پر ظلم ڈھانے سے گریز کرے۔
بیرسٹر سیف نے کہا کہ مودی سرکار اپنی فاشسٹ سوچ کے تحت پورے برصغیر کو آگ میں جھونکنے کے درپے ہے۔ بھارت کسی بھی قسم کے جارحانہ اقدام سے باز رہے، ورنہ پاکستانی قوم دشمن کو اس کی زبان میں جواب دینا جانتی ہے۔
انہوں نے بھارت کو ماضی کی شرمناک اور تلخ یاد کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس بار چائے ’’فنٹاسٹک‘‘ نہیں بلکہ کڑوی اور ناقابلِ برداشت ہوگی۔ بھارت نے اگر کوئی حرکت کی تو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔پاکستان دشمن کو ہر محاذ پر شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ترجمان خیبر پخونخوا حکومت کا کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے قومی اتحاد ناگزیر ہے۔ عمران خان کی رہائی کے بغیر قومی یکجہتی ناممکن ہے۔ عمران خان کی قیادت میں ملک بحرانوں سے نکل سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔