معروف فیشن ڈیزائنر کے خلاف اہلیہ عدالت پہنچ گئیں، نان نفقے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
معروف پاکستانی نژاد ڈیزانئر کے خلاف اہلیہ نے عدالتی محاذ کھولتے ہوئے لاہور کی مقامی عدالت میں نان نقصے کا کیس درج کرادیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق فیشن ڈیزائنر کی چوتھی اہلیہ نے لاہور کی مقامی عدالت میں نان نفقے کا کیس دائر کرتے ہوئے عدالت نے انصاف مانگ لیا ہے۔
اہلیہ نے درخواست میں الزام عائد کیا کہ فیشنز ڈیزائنر نے ماضی کی شادیوں کے حوالے سے جھوٹ بولا اور نکاح نامے میں غلط معلومات درج کیں۔
خفیہ چیزیں اور باتیں سامنے آنے کے بعد فیشن ڈیزائنر کی اہلیہ نے حقائق جاننے کی کوشش کی اور پھر انصاف کیلیے عدالت کا دورازہ کھٹکھٹا دیا۔ جس کے باعث نجی زندگی میں تنازعات اور پیچیدگیاں بڑھ گئی ہیں۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق مقدمے کی درخواست لاہور کی فیملی کورٹ میں 6 مارچ کو دائر کی گئی۔ جس کے بعد نوٹس جاری ہوئے تاہم مبینہ طور پر ملزم عدالت میں پیش نہ ہوسکا۔
مذکورہ درخواست کی سماعت سول جج رانا آصف مصطفیٰ کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اہلیہ نے الزام عائد کیا ہے کہ محمود بھٹی نے طویل عرصے سے نہ صرف مالی بلکہ جذباتی ذمہ داریوں سے بھی کنارہ کشی اختیار کر رکھی ہے۔
درخواست میں گھریلو تنازعات، جائیداد، وراثت اور اخلاقی ذمہ داریوں جیسے حساس نکات کو بھی اجاگر کیا گیا ہے اور اپنا حق دینے کی استدعا کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اہلیہ نے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک