UrduPoint:
2026-06-02@23:18:00 GMT

تلخ بحث کے بعد ٹرمپ اور زیلنسکی کی اولین ملاقات

اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT

تلخ بحث کے بعد ٹرمپ اور زیلنسکی کی اولین ملاقات

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 26 اپریل 2025ء) آج ہفتہ 26 اپریل کو ویٹی کن سٹی میں پوپ فرانسس کی تدفین کے موقع پر امریکی اور یوکرینی صدور کے مابین سینٹ پیٹرز بیسیلیکا میں مختصر ملاقات ہوئی۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی تلخ بحث کے بعد یہ ان کی پہلی ملاقات تھی۔ اس دوران امریکی صدر نے یوکرینی رہنما پر روس کے ساتھ امن معاہدے کے لیے زور دیا۔

صدر زیلنسکی کا کہنا تھا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ سے ملاقات میں روس کے ساتھ بغیر کسی شرط کے جنگ بندی کے امکان پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے اسے ''ایک علامتی ملاقات‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مختصر گفتگو سے امید وابستہ کی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے ''سرحدی علاقے کروسک کو مکمل طور پر آزاد کرا لیا ہے‘‘۔

(جاری ہے)

یوکرین کا تاہم کہنا ہے کہ اس کی فوج اب بھی روسی علاقے کروسک کے محاذوں پر لڑ رہی ہے۔ یوکرین مستقبل میں امن مذاکرات میں اس ریجن کو سودے بازی کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔

یوکرینی صدارت کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر میں دکھایا گیا کہ ٹرمپ اور زیلنسکی پوپ فرانسس کی تدفین سے قبل بیسیلیکا کے ایک گوشے میں آمنے سامنے بیٹھے گہرے گفتگو میں مصروف تھے۔

زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ''ہم نے مختلف موضوعات پر کھل کر بات چیت کی۔ تمام پہلوؤں پر مثبت نتائج کی امید ہے۔ اپنے عوام کی جانوں کا تحفظ، مکمل اور غیر مشروط جنگ بندی اور ایسا پائیدار امن جو کسی نئی جنگ کو روکے۔‘‘

زیلنسکی کے معاون نے بھی اس ملاقات کو ''تعمیری‘‘ قرار دیا جبکہ وائٹ ہاؤس نے اس رابطے کو ''انتہائی نتیجہ خیز گفتگو‘‘ کہا۔

تاہم امریکی صدر جنازے کی رسم کے بعد طے شدہ شیڈول کے مطابق روم سے روانہ ہو گئے اور مزید بات چیت نہیں ہوئی۔ دیگر یورپی رہنماؤں کے ساتھ بھی ٹرمپ کی ملاقات

دونوں رہنماؤں نے برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر اور فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں کے ساتھ بھی مختصر بات چیت کی۔

ماکروں کے دفتر نے چاروں رہنماؤں کے درمیان تبادلہ خیال کو ''مثبت‘‘ قرار دیا اور بعد میں ماکروں نے زیلنسکی سے علیحدہ ملاقات بھی کی۔

سینٹ پیٹرز اسکوائر میں امریکی صدر ٹرمپ دنیا بھر کے درجنوں رہنماؤں سے ملے، جو ان سے تجارتی محصولات اور دیگر مسائل پر بات کرنا چاہتے تھے۔

لیکن سب سے زیادہ توجہ ٹرمپ کی زیلنسکی کے ساتھ ملاقات کو ملی کیونکہ امریکی صدر یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امن معاہدے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ٹرمپ اگرچہ صدر ولادیمیر پوٹن سے یوکرین پر حملے روکنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں لیکن حالیہ دنوں میں انہوں نے جنگ کا الزام زیلنسکی پر بھی عائد کیا ہے۔

ہفتے کے دن روم پہنچنے کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور اب روس و یوکرین کے رہنماؤں کو اعلیٰ سطح پر مل کر اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر لکھا، ''زیادہ تر اہم نکات پر اتفاق ہو چکا ہے‘‘۔

ادھر پوٹن نے بھی امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ ملاقات میں یوکرین سے براہ راست مذاکرات کے امکان پر گفتگو کی۔

ٹرمپ کی یورپی کمیشن کی صدر سے بھی ملاقات

یورپی اتحادیوں کو تجارتی محصولات کے فیصلے سے ناراض کرنے کے باوجود ٹرمپ نے یورپی کمیشن کی سربراہ ارزلا فان ڈئر لایئن سے مصافحہ کیا اور ان سے ملاقات پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر دیگر رہنما بھی ان کے ساتھ بات کرنے کے خواہاں نظر آئے۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ یہ ملاقاتیں مختصر ہوں گی، ''سچ کہوں تو جنازے کے موقع پر ملاقاتیں کرنا کچھ بے ادبی سی لگتی ہے۔‘‘

ادارت: افسر اعوان

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے امریکی صدر کے ساتھ کی صدر کے بعد

پڑھیں:

بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا

اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا