واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔26 اپریل ۔2025 )امریکی حکام نے ریاست وسکانسن کی ایک خاتون جج کو ٹرمپ انتظامیہ کے انسداد امیگریشن اقدامات کے خلاف اپنی عدالت سے ایک شخص کی گرفتاری روکنے اور اسے باہر جانے میں مددفراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق محکمہ انصاف نے مجرمانہ شکایت میں کہا کہ ملواکی کاﺅنٹی سرکٹ جج ہنا ڈوگن نے امیگریشن ایجنٹوں کو روکا جو 18 اپریل کو عدالتی وارنٹ کے بغیر اس شخص کو گرفتار کرنے عدالت کے باہر آئے تھے جج نے اسے جیوری کے دروازے سے باہر نکلنے کی اجازت دے کر گرفتاری سے بچنے میں مدد کرنے کی کوشش کی .

(جاری ہے)

ایجنٹوں نے ایڈورڈو فلورس روئز نامی شخص کو عدالت کے باہر سے اس وقت گرفتار کرلیا تھا جب وہ اپنے وکیل کے ساتھ جا رہا تھا ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ گرفتار کی گئی جج ہنا ڈوگن ملواکی کی ایک وفاقی عدالت میں مختصر وقت کے لیے پیش ہوئیں تاکہ سرکاری کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے اور گرفتاری کو روکنے کے لیے ایک شخص کو چھپانے کے الزامات کا سامنا کرسکیں وفاقی عدالت نے جج کو رہا کردیا گرفتار ہونے والی جج 15 مئی کو ایک پٹیشن داخل کریں ان کی پیشی کے دوران عدالت کے باہر ایک ہجوم جمع ہو گیاجو”جج کو رہا کرو“کے نعرے لگا رہا تھا تاہم جج ڈوگن بغیر کسی تبصرہ کے عدالت کے دروازے سے باہر نکل گئیں ان کی جانب سے کہا ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جج ڈوگن بھرپور طریقے سے اپنا دفاع کریں گی اور انہیں بری کیے جانے کا انتظار ہے ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ٹرمپ نے جنوری میں عہدہ سنبھالنے کے بعد امیگریشن کریک ڈاﺅن کا آغاز کیا تھا محکمہ انصاف نے وفاقی پراسیکیوٹرز کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس کوشش میں مداخلت کرنے والے مقامی حکام کے خلاف فوجداری مقدمات کی پیروی کریںاس طرح کی مزاحمت ٹرمپ کے پہلے 2021-2017 کے دور اقتدار کے دوران وسیع پیمانے پر کی گئی تھی.

اٹارنی جنرل پام بونڈی نے ایک بیان میں کہا کہ کسی بھی جج کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے ٹرمپ انتظامیہ کی وفاقی ججوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی محاذ آرائی جاری ہے کیوں کہ بہت سے ججز نے ایسے فیصلے جاری کیے جو امیگریشن اور دیگر معاملات میں صدارتی اختیارات کے جارحانہ استعمال کو محدود کرتے ہیں ریاستی عدالتوں نے اس تنازع میں کم اہم کردار ادا کیا ہے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر بیان میں کہا کہ ایجنٹوں نے فلورس روئز کی گرفتاری میں مداخلت کرنے پر جج ہنا ڈوگن کو گرفتار کیا تھا بعد ازاں انہوں نے اس پوسٹ کو حذف کر دیا جو اس سے قبل کی گئی تھی جب ڈوگن کے خلاف کیس کو رازداری کے قواعد کی ممکنہ خلاف ورزی کرتے ہوئے وفاقی عدالت میں سیل نہیں کیا گیا تھا.

سینیٹ کی عدالتی کمیٹی میں سب سے سینئر ڈیموکریٹ سینیٹر ڈک ڈربن نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ ہمارے آئین کی حدود کی جانچ جاری رکھے ہوئے ہے اور جب امیگریشن حکام فوجداری انصاف کے نظام میں مداخلت کرتے ہیں تو یہ گواہوں اور متاثرین کو آگے آنے سے روکتا ہے ڈربن نے اپنے بیان میں کہا کہ ایک جج کو گرفتار کرنے سے امریکا کیسے محفوظ ہو سکتا ہے؟ اس ہفتے وفاقی حکام نے نیو میکسیکو کے ایک سابق جج کو بھی گرفتار کیا اور ان پر شواہد سے چھیڑ چھاڑ کا الزام عائد کیا عدالتی ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ ایک شخص جس کے بارے میں حکام کا الزام ہے کہ اس کا تعلق وینزویلا کے ایک اسٹریٹ گینگ سے ہے جج کو اس کی جائیداد پر رہتے ہوئے پایا گیا تھا.

مجرمانہ شکایت کے مطابق سابق جج جوئل کینو اور ان کی اہلیہ نینسی پر اس وقت فرد جرم عائد کی گئی جب انہوں نے مبینہ طور پر اس شخص کو ایک موبائل فون تباہ کرنے میں مدد کی جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس اسلحہ رکھنے کا ثبوت موجود تھا ریاست کی سپریم کورٹ نے منگل کے روز جوئیل کینو کو ریاست میں جج کی حیثیت سے خدمات انجام دینے سے روک دیا تھا جوئل اور نینسی کینو کے وکلا نے فوری طور پر تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا.

ریاست وسکانسن کیس میں ایک مجرمانہ شکایت میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ہنا ڈوگن 18 اپریل کو جب سادہ کپڑوں میں ملبوس امیگریشن ایجنٹ پہنچے تو یہ مضحکہ خیز تھا اور کہا گیا تھا کہ وہ فلورس روئز کی عدالت چھوڑنے کے بعد انہیں گرفتار کرنا چاہتے ہیں جہاں انہیں گھریلو تشدد سے متعلق بدسلوکی کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا تھا باہر کوریڈور میں بات کرتے ہوئے انہوں نے ایجنٹوں سے پوچھا کہ کیا ان کے پاس ان کی گرفتاری کے لیے عدالتی وارنٹ موجود ہے تو انہوں نے انہیں بتایا کہ وارنٹ موجود نہیں صرف ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے جاری کردہ انتظامی وارنٹ ہیں.

شکایت میں کہا گیا ہے کہ ہنا ڈوگن نے ایجنٹوں سے کہا کہ انہیں عدالت کے اندر کسی کو گرفتار کرنے کے لیے عدالتی وارنٹ کی ضرورت ہے اور انہیں چیف جج سے بات کرنے کے لیے کہا گیا شکایت میں کہا گیا ہے کہ اس کے بعد وہ اپنے کمرہ عدالت میں واپس آئیں اور سماعت ملتوی کرنے کے بعد فلورس روئز اور ان کے وکیل کو ایک دروازے سے جانے کی ہدایت کی جو عدالت میں عام افراد کے استعمال کے لیے نہیں عدالت سے نکلتے ہی باہر موجود ایجنٹوں نے فلورس روئز سے رابطہ کیا اور انہیں پیدل پیچھا کرنے کے بعد گرفتار کر لیا.

ملواکی کی عدالت کے چیف جج کارل ایشلے نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا شکایت میں کہا گیا ہے کہ فلورس روئز کو اس سے قبل میکسیکو ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے ڈی ایچ ایس کی ترجمان ٹریسیا میک لاگلن نے ایک بیان میں کہا کہ جب سے صدر ٹرمپ نے حلف اٹھایا ہے سرگرم ججوں نے صدر ٹرمپ اور امریکی عوام کے مینڈیٹ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی ہے لیکن اس جج کے ایک متشدد مجرم کو انصاف سے بچانے کے لیے اقدامات حیران کن ہیں ڈوگن کو پہلی بار 2016 میں کاﺅنٹی جج کے طور پر منتخب کیا گیا تھا اور اس سے پہلے وہ کیتھولک خیراتی اداروں کی مقامی شاخ کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں جو دیگر خدمات کے علاوہ پناہ گزینوں کی بازآبادکاری کے پروگرام بھی فراہم کرتی ہے.

انہوں نے اپنے ابتدائی کیریئر کا زیادہ تر حصہ ملواکی کی لیگل ایڈ سوسائٹی میں وکیل کی حیثیت سے گزارا جو غریب لوگوں کی خدمت کرتی ہے ٹرمپ کی پہلی 2021-2017 کی صدارتی مدت کے دوران، وفاقی استغاثہ نے میساچوسٹس کی ایک جج کے خلاف فوجداری الزامات عائد کیے تھے جن پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے کمرہ عدالت میں ایک مدعا علیہ کی وفاقی امیگریشن گرفتاری میں رکاوٹ ڈالی تھی ان الزامات کو 2022 میں ختم کر دیا گیا تھا جب ٹرمپ صدر نہیں رہے تھے یونیورسٹی آف مشی گن لا اسکول کی سابق وفاقی پراسیکیوٹر باربرا میک کواڈ نے کہا کہ ججوں کو کوئی خصوصی استثنیٰ حاصل نہیں لیکن استغاثہ کو امریکی وفاقی نظام پر پڑنے والے اثرات پر غور کرنا چاہیے جو ریاستوں کو اپنے قوانین نافذ کرنے کی اجازت دیتا ہے انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ استغاثہ کی صوابدید کا ایک بہت جارحانہ استعمال ہے.


ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے میں کہا گیا ہے کہ میں کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ شکایت میں کہا فلورس روئز گرفتار کر عدالت میں میں رکاوٹ کو گرفتار ہنا ڈوگن عدالت کے انہوں نے کے خلاف کرنے کے عائد کی گیا تھا کے بعد شخص کو کی گئی اور ان کے لیے

پڑھیں:

بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان

سیکیورٹی اداروں نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران حبیبہ پیرجان کی رہائش گاہ سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک دہشتگردوں سے متعلق ریکارڈ، ریاست مخالف مواد اور بھارتی فنڈنگ کے شواہد برآمد ہوئے۔ تحقیقات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، کے ساتھ روابط سامنے آئے۔

مزید پڑھیں: آسٹریلیا کی جانب سے بی ایل اے اور 3 سینیئر رہنماؤں پر دہشتگردی کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی پروپیگنڈا شاعری اور زہریلی سوشل میڈیا سرگرمیاں معصوم نوجوانوں میں ریاست مخالف بیانیے اور باغیانہ سوچ کو فروغ دینے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔

حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں۔ انہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا تھا، تاہم علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔

کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک شدہ عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد میں بھارتی مالی معاونت اور ریاست مخالف سرگرمیوں سے متعلق بعض اہم شواہد بھی شامل ہیں جن کا مزید تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات اور انٹیلیجنس معلومات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، بالخصوص رستم پیرجان، کے ساتھ مبینہ قریبی روابط کی نشاندہی ہوئی ہے۔ انہوں نے ضلع کیچ کے دشت کے پہاڑی علاقوں میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 ملاقاتیں کیں، جن میں ایک ملاقات رواں سال 14 فروری کو ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) سے وابستہ متعدد شخصیات سے روابط اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست مخالف مواد کی تشہیر میں سرگرم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق حبیبہ پیرجان کی شاعری اور تحریروں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب مواد میں ایسی نظمیں اور اشعار شامل ہیں جن میں مسلح عناصر کی تعریف، ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کی ترویج اور نوجوانوں کو باغیانہ سوچ کی جانب راغب کرنے کے عناصر پائے جاتے ہیں۔

ان کی اکثر نظموں میں مسلح گروہوں اور شدت پسندوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے، جبکہ بعض تحریروں میں نوجوانوں کو انتخابی عمل سے دور رہنے، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور مسلح جدوجہد کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کالعدم بی ایل اے کے ایک گروپ کے اشتہاری سربراہ حربیار مری کی تحسین میں بھی ایک نظم لکھی گئی ہے، جس کا اردو ترجمہ اور عکس بھی موجود ہے:

حربیار مری کے نام

ٹوٹا ہوا وطن کا آواز ہے حربیار

کالی رات کا خوف ہے حربیار

پہاڑوں میں کھڑا ہوا ہے اپنی بات کہ اوپر

ایک آگ کی طرح ہے حربیار

اسکو خبر ہے اس راستہ کا

آجاؤ ہمسفر ہماری آواز ہے حربیار

حبیبہ سو دفعہ سوچ چکی ہے

ہر بلوچ کا درد وار ہے حربیار

حکام کے مطابق ایسے مواد کو شدت پسندی اور دہشتگردی کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی

سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان کے خلاف دستیاب شواہد اور برآمد شدہ مواد کا فرانزک و قانونی جائزہ جاری ہے، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق مطلوب خاتون کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

10 لاکھ روپے انعام انٹیلیجنس معلومات بلوچ یکجہتی کمیٹی پروپیگنڈا شاعری حبیبہ پیرجان رستم پیرجان سیکیورٹی ادارے عسکریت پسند کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کالعدم بی ایل اے

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان