نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار 25 جولائی کو واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے اہم ملاقات کریں گے۔ یہ اسحاق ڈار اور روبیو کے درمیان پہلی سرکاری ملاقات ہوگی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیملی بروس کے مطابق ملاقات کی تیاری مکمل ہے اور وہ خود دونوں جانب کے اعلیٰ حکام کے ہمراہ شریک ہوں گی۔

ذرائع کے مطابق ملاقات کے ایجنڈے کی تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئیں، تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ پاک-بھارت کشیدگی کم کرانے میں ادا کیے گئے کردار پر شکریہ ادا کریں گے۔

یاد رہے کہ پاکستان نے کچھ ہفتے قبل صدر ٹرمپ کو جنوبی ایشیا میں قیامِ امن کے لیے ان کی ’غیر معمولی خدمات‘ کے اعتراف میں نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا تھا۔ یہ درخواست خود اسحاق ڈار کے دستخط سے ناروے کی نوبیل کمیٹی کو بھیجی گئی تھی۔

صدر ٹرمپ نے ماضی میں مسئلہ کشمیر کو ایک دیرینہ اور حل طلب تنازع قرار دیتے ہوئے ثالثی کی پیشکش کی تھی، جسے پاکستان نے فوری طور پر سراہا، جبکہ بھارت نے یہ تجویز مسترد کر دی اور مذاکرات سے مسلسل گریزاں رہا۔

یہ ملاقات ایسے وقت پر ہو رہی ہے جب بھارت کی سرحدی جارحیت میں کمی نہیں آئی اور نئی دہلی نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا ہے، اور پانی کی تقسیم سے متعلق غیرجانبدار مذاکرات سے انکار کر رہا ہے۔

میڈیا کے مطابق اس ملاقات میں کشمیر کے مسئلے، سرحدی کشیدگی اور دیگر 2 طرفہ امور کے ساتھ ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعاون پر بھی بات چیت کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسحاق ڈار کے مطابق

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل