کراچی، فائرنگ کے واقعات میں 4 افراد زخمی ہو گئے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کے واقعات میں 4 افراد زخمی ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق سپر ہائی وے چاکر ہوٹل گلشن معمار بس اسٹاپ کے قریب فائرنگ سے 52 سالہ صدیق نامی شخص زخمی ہوگیا جسے عباسی شہید اسپتال لیجایا گیا۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ ڈکیتی مزاحمت پر پیش آنے کا بتایا جا رہا ہے جبکہ سائٹ سپرہائی وے صنعتی ایریا پولیس واقعے کو نامعلوم ملزمان کی فائرنگ کا شاخسانہ قرار دے رہی ہے۔
قائد آباد مجید کالونی اسپتال چورنگی الیاس کوچ اڈے کے قریب فائرنگ سے 25 سالہ شاہ زیب زخمی ہوگیا، ایدھی حکام کے مطابق واقعہ نامعلوم ملزمان کی فائرنگ پیش آنے کا بتایا جا رہا ہے۔
لانڈھی 4 نمبر زمان آباد میں فائرنگ سے 30 سالہ اکبر علی زخمی ہوگیا جسے طبی امداد کے لیے جناح اسپتال لیجایا گیا۔
چھیپا حکام کے مطابق واقعہ ڈکیتی مزاحمت کے دوران بازو پر گولی لگنے کا بتایا جا رہا ہے۔
دریں اثنا لیاقت آباد 10 نمبر الیکٹرانک مارکیٹ کے قریب فائرنگ سے نوجوان زخمی ہوگیا جسے عباسی شہید اسپتال لیجایا گیا۔
لیاقت آباد پولیس کے مطابق مضروب کی شناخت 16 سالہ حمزہ کے نام سے کی گئی جبکہ واقعہ نامعلوم سمت سے آنے والی گولی لگنے کا بتایا جا رہا ہے جس کی مزید چھان بین کی جا رہی ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: زخمی ہوگیا فائرنگ سے کے مطابق
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک