سوات(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔22جولائی 2025)خیبر پختونخوا ہ کے علاقے سوات میں استاد کے مبینہ تشدد کے باعث مدرسے کا طالب علم جاں بحق ہوگیا، طلبہ اور اساتذہ نے بچے کو قریبی ہسپتال پہنچایا مگر ڈاکٹروں نے اسے مردہ قراردیدیا، جاں بحق طالب علم کی شناخت فرحان کے نام سے ہوئی جس کی لاش پوسٹ مارٹم کیلئے ہسپتال منتقل کر دی گئی۔ پولیس حکام نے بتایا کہ استاد کے تشدد سے 14 سالہ طالب علم جاں بحق ہوا، واقعہ خوازہ کے علاقہ چالیار میں واقع مدرسے میں پیش آیا۔

مدرسے کا کم عمر طالب علم فاران چند دنوں کی غیر حاضری کے بعد دوبارہ مدرسے آیا لیکن اس کی واپسی اس کیلئے جان لیوا ثابت ہوئی۔پولیس اور عینی شاہدین کے مطابق 3 اساتذہ محمد عمر ان کے بیٹے احسان اللہ اور ایک اور شخص عبداللہ نے مبینہ طور پر اسے دوسرے طلبہ کے سامنے مارنا شروع کیا۔

(جاری ہے)

یہ مارپیٹ غیر حاضری کی سزا کے طور پر شروع ہوئی اور جلد ہی بے رحمانہ تشدد میں تبدیل ہوگئی۔

ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) سوات کے ترجمان معین فیاض نے تصدیق کی ہے کہ تینوں ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے ان میں سے ایک ملزم عبداللہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ باقی 2 کی گرفتاری کیلئے کارروائیاں جاری ہیں۔ترجمان نے کہا کہ یہ نہایت افسوس ناک اور تشویش ناک کیس ہے، مکمل تفتیش جاری ہے۔ہم بچے اور اس کے خاندان کو انصاف دلانے کیلئے پرعزم ہیں۔

فاران کے چچا نے بتایا کہ جب وہ گھر پر تھا تو مدرسے جانے سے ڈرتا تھا اور واپس نہیں جانا چاہتا تھا، میں خود اسے مدرسے لے گیا۔ اساتذہ کے حوالے کیا اور واپس آ گیااور اسی شام ایک استاد کا فون آیا اور بتایا کہ میرا بھتیجا بیت الخلا میں گر کر فوت ہو گیا ہے۔دوسری جانب واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ لواحقین اور شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے مین خوازہ خیلہ بازار کی مرکزی سڑک بند کر دی اور ملوث ملزمان (اساتذہ) کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

پولیس حکام نے بتایا کہ مدرسے کے 2 اساتذہ کو ہسپتال سے گرفتار کر لیا گیا۔ واقعے کا مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔متاثرہ بچے کے ساتھی طالبعلم نے احتجاج کے دوران خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ مقتول طالبعلم کو 3 اساتذہ نے باری باری 5 گھنٹے تک کمرے میں بند رکھ کر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ تشدد کا سلسلہ رکانہیں بلکہ ایک کے بعد دوسرا استاد مسلسل اذیت دیتا رہا اور بالآخر بچہ جانبر نہ ہو سکا۔اہل علاقہ نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے سنگین واقعات کی روک تھام کیلئے مدارس کے اندر نگرانی کے موثر نظام قائم کیا جائے اور اس واقعے میں ملوث اساتذہ کو فوری طور پر گرفتار کر کے سزا دی جائے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بتایا کہ طالب علم اور اس

پڑھیں:

 کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر

اسلام آباد،اوورسیز چیمبر آف کامرس سروے (overseas chamer commerce)میں بتایا گیا کہ پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور ہوگیا، 70 سے 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر ہوئے۔

سروے میں بتایا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9 فیصد پوائنٹس کمی سے مثبت 13 فیصد رہ گیا، خدمات کے شعبے میں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔

اوورسیز چیمبر سروے کے مطابق مینوفیکچرنگ کے شعبے میں کاروباری اعتماد 7 پوائنٹس کم ہوگیا، صرف ریٹیل سیکٹر میں کاروباری اعتماد 3 پوائنٹس اضافے سے مثبت 20 فیصد ہوگیا۔

مزید پڑھیں:سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع

سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ نئی سرمایہ کاری انڈیکس 10 پوائنٹس کمی سے صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں