کشمیر پر ثالثی سے متعلق پاکستانی رہنما سے جمعہ کو ملاقات ہوگی، ترجمان امریکی محکمہ خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ کشمیر پر ثالثی سے متعلق امور پر بات چیت جمعہ کو ایک پاکستانی رہنما سے ملاقات میں کی جائے گی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا جانتا ہے کہ اس معاملے میں آگے کیسے بڑھنا ہے، اور واشنگٹن اس اہم ملاقات کا منتظر ہے۔
واضح رہے کہ پاکستانی نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار 25 جولائی کو واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے اہم ملاقات کریں گے۔ یہ اسحاق ڈار اور روبیو کے درمیان پہلی سرکاری ملاقات ہوگی۔
امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیملی بروس کے مطابق ملاقات کی تیاری مکمل ہے اور وہ خود دونوں جانب کے اعلیٰ حکام کے ہمراہ شریک ہوں گی۔
یہ ملاقات ایسے وقت پر ہو رہی ہے جب بھارت کی سرحدی جارحیت میں کمی نہیں آئی اور نئی دہلی نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا ہے، اور پانی کی تقسیم سے متعلق غیرجانبدار مذاکرات سے انکار کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے اسحاق ڈار اور امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو کے درمیان اعلیٰ سطحی 25جولائی کوہوگی
میڈیا کے مطابق اس ملاقات میں کشمیر کے مسئلے، سرحدی کشیدگی اور دیگر 2 طرفہ امور کے ساتھ ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعاون پر بھی بات چیت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے ماضی میں مسئلہ کشمیر کو ایک دیرینہ اور حل طلب تنازع قرار دیتے ہوئے ثالثی کی پیشکش کی تھی، جسے پاکستان نے فوری طور پر سراہا، جبکہ بھارت نے یہ تجویز مسترد کر دی اور مذاکرات سے مسلسل گریزاں رہا۔
شام میں کشیدگی میں کمی، غزہ کے لیے نمائندہ خصوصی کی روانگیٹیمی بروس نے بتایا کہ شام میں تمام فریقین کشیدگی ختم کرنے پر رضامند ہوچکے ہیں۔ اس ضمن میں امریکی نمائندہ خصوصی وٹکوف کو جنگ بندی کی کوششوں کے سلسلے میں غزہ بھیجا جا رہا ہے۔
غزہ کی صورتحال اور حماس پر الزاماتترجمان نے کہا کہ امریکا کے مطابق غزہ میں حماس کا زور ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حماس انسانی امداد لوٹ کر بیچنے میں ملوث ہے، اور اس وجہ سے فلسطینی عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ دن بھی آئے گا جب ہم غزہ کی تعمیر نو پر بات کریں گے۔
عالمی اداروں سے امریکہ کی علیحدگیعالمی ادارہ صحت (WHO): ٹیمی بروس نے کہا کہ امریکا نے ڈبلیو ایچ او کو آگاہ کر دیا ہے کہ اب وہ انٹرنیشنل ہیلتھ ریگولیشنز کا حصہ نہیں رہے گا، اور ہیلتھ پالیسی صرف امریکی عوام کے لیے خود تشکیل دے گا۔
یہ بھی پڑھیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کردی
یونیسکو: ترجمان نے کہا کہ امریکا یونیسکو سے شراکت داری ختم کر رہا ہے کیونکہ تنظیم نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کیا، جو کہ امریکی مفادات کے منافی ہے۔
وینزویلا سے امریکی قیدیوں کی رہائیٹیمی بروس نے اعلان کیا کہ وینزویلا میں اب کوئی بھی امریکی قیدی موجود نہیں۔ انہوں نے امریکی شہریوں کو تنبیہ کی کہ وہ وہاں سفر نہ کریں کیونکہ امریکا کے شہریوں کو غلط طریقے سے قید کیا جاتا رہا ہے۔
روس، یوکرین اور ایران سے متعلق مؤقفایک سوال کے جواب میں بروس نے کہا کہ صدر ٹرمپ روس اور یوکرین کے درمیان براہ راست بات چیت کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ہر ممکنہ امن کوشش کی حمایت کرتے ہیں۔
ایران سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس خوشحالی کا راستہ اپنانے کا موقع موجود ہے۔
افغانستان میں داعش، ٹی ٹی پی اور القاعدہ کے خلاف ممکنہ کارروائی سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا
ٹرمپ انتظامیہ کی پہلی مدت میں داعش کو ختم کر دیا گیا تھا، تاہم پچھلے 4 سال میں اس تنظیم کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملا۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی ماضی کی کوششوں کو دیکھ کر مستقبل کی حکمتِ عملی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسحاق ڈار ٹیمی بروس مارکو روبیو مسئلہ کشمیر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار ٹیمی بروس مارکو روبیو مسئلہ کشمیر ٹیمی بروس نے اسحاق ڈار کہ امریکا نے کہا کہ انہوں نے کے لیے رہا ہے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔