بلاول بھٹو کی وارننگ نے بھارت کی حکومت کو بوکھلا دیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
پاکستان کے سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے سندھ طاس معاہدے کی نام نہاد معطلی کی انتہائی غیر ذمہ دارانہ حرکت پر ٹھوس وارننگ نے بھارت کی قیادت کو بوکھلا دیا۔
بلاول بھٹو نے سیدھے سبھاؤ بتایا کہ اگر انڈیا کی قیادت نے سندھ طاس معاہدہ کو چھیڑا اور سندھ دریا کا پانی روکنے کی کوشش کی تو اس کا نتیجہ کیا ہو گا۔
بلاول بھٹو نے بتایا کہ سندھ دریا میں پانی نہیں بہے گا تو پھر دریا میں پانی روکنے والوں کا خون بہے گا۔
اسحاق ڈار کا ترکیہ کے وزیر خارجہ سے ٹیلفونک رابطہ
پاکستان کا پانی روکنے کی بچگانہ حرکت کرنے والوں کو بلاول کے ٹھوس جواب کا کوئی جواب نہیں سوجھا تو مودی کے مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے ہفتہ (26 اپریل 2025) کو یہ بیان داغ دیا کہ وہ "اپنی دماغی حالت کی جانچ کرائیں۔"
ہردیپ سنگھ پوری نے کہا، "اس سے کہو کہ وہ اپنی دماغی حالت کی جانچ کرائے، وہ کس قسم کے بیانات دے رہا ہے، بہت ہو گیا.
پی ایس ایل 10؛ قلندر نے ٹاس جیت کر ملتان سلطان کو بیٹنگ کی دعوت دیدی
بلاول بھٹو جب پاکستان کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے بھارت مین ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرا خارجہ اجلاس مین گئے تھے تو بھارت کے کسی نیتا کو اس نوجوان لیڈر کا سامنا کرنے کی ہی جرات نہیں ہوئی تھی، بلاول نے انڈیا میں اپنی گفتگوؤں میں اعلیٰ درجہ کی دپلومیٹک روایات کو برقرار رکھتے ہوئے پاک بھارت تعلق کے ضمن میں بھارت کی قیادت کے رویہ پر معقول انداز سے ایسے جملے کہے تھے جن کی جلن بہت دنوں تک مھسوس کی گئی تھی۔
بھارت میں پاکستان کے خلاف مِس ایڈونچر کی شدید مخالفت، مودی کا محاسبہ
اب نئی دہلی میں نریندر مودی کی حکومت نے سندھ دریا کے پانی کو میلی آنکھ سے دیکھا تو بلاول بھٹو نے ڈپلومیٹک زبان استعمال نہیں کی بلکہ سادہ زبان میں مودی کو ان کے دماغ میں پل رہی سازشوں کا انجام سمجھا دیا۔
ہردیپ سنگھ پوری کے سوا کسی دوسرے کو بلاول بھٹو کی وارننگ کا جواب دینے کی جرات ہی نہیں ہوئی۔
Waseem Azmet
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔