خیبر پختونخوا، سکیورٹی فورسز کے آپریشنز میں 15 خوارج ہلاک، 2 جوان شہید
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق سکیورٹی فورسز نے خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائیاں کیں آپریشن کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 8 خوارج مارے گئے۔ اسلام ٹائمز۔ سکیورٹی فورسز کے خیبر پختونخوا کے علاقے کرک میں گرینڈ آپریشنز میں 7 خوراج جہنم واصل جبکہ 2 جوان وطن پر قربان ہو گئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسز نے خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائیاں کیں آپریشن کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 8 خوارج مارے گئے۔ اسی طرح شمالی وزیرستان میں ایک اور آپریشن میں 4 خوارج ہلاک ہوگئے جبکہ شدید فائرنگ کے تبادلے میں لانس نائیک عثمان محمد اور سپاہی عمران خان شہید ہوئے۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ جنوبی وزیرستان کے علاقے گومل زام میں 3 خوارج مارے گئے، مارے گئے خوارج سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک ہونے والے خوارج دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے، سکیورٹی فورسز کا دیگر ممکنہ خوارج کے خاتمے کیلئے سینی ٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سکیورٹی فورسز نے خوارج
پڑھیں:
کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
کراچی:ملیر 15 کے علاقے میں سندھ رینجرز اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران مبینہ مقابلے میں تین ملزمان ہلاک جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
چھیپا حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مبینہ بھتہ خوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد تین ملزمان مارے گئے جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔
فائرنگ ختم ہونے کے بعد ہلاک اور زخمی ملزمان کو ریسکیو کی ایمبولینسوں کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت شاہ رخ، راحب اور علی حمزہ کے ناموں سے ہوئی ہے جبکہ زخمی حالت میں گرفتار ملزم کی شناخت محمد وسیم کے نام سے کی گئی ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ہلاک اور گرفتار ملزمان بھتہ خوری سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی مزید تفتیش کر رہے ہیں اور ملزمان کے ممکنہ ساتھیوں کی تلاش بھی جاری ہے۔