چین کی نیوکلیئر پاور کا مجموعی پیمانہ پہلی بار دنیا میں پہلے نمبر پر، توانائی کی پیداوار میں مسلسل اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
بیجنگ : چائنا نیوکلیئر انرجی ایسوسی ایشن نے “چائنا نیوکلیئر انرجی ڈویلپمنٹ رپورٹ 2025” بلیو بک جاری کر دی ہے۔ بلیو بک کے مطابق، اب تک چین میں فعال ، زیر تعمیر اور منظور شدہ نیوکلیئر پاور یونٹس کی کل تعداد 102 ہے، جن کی تنصیبی صلاحیت 113 ملین کلوواٹ تک پہنچ چکی ہے۔
اس کے ساتھ ہی چین کی نیوکلیئر پاور کا مجموعی پیمانہ پہلی بار دنیا میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔
چین میں جوہری بجلی کی پیداوار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔2024 میں، ملک بھر میں فعال نیوکلیئر پاور یونٹس کی مجموعی بجلی کی پیداوار 444.
بلیو بک کے مطابق نہ صرف جوہری توانائی کے پیمانے میں توسیع جاری ہے بلکہ چین کی جوہری توانائی کی ٹیکنالوجی کی آزاد جدت طرازی کی صلاحیت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
Post Views: 1
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس، پنجاب حکومت کے فیصلے پر وفاقی آئینی عدالت کا سخت اظہارِ تشویش
وفاقی آئینی عدالت میں سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس کی سماعت کے دوران پنجاب حکومت کی جانب سے رائلٹی کے نفاذ کے طریقۂ کار پر عدالت نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جس میں مختلف قانونی نکات اور رائلٹی کے دائرہ کار پر تفصیلی ریمارکس دیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:سرکاری ملازمین کی سینیارٹی سے متعلق وفاقی آئینی عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا
سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ رائلٹی کا نفاذ معدنیات پر ہونا چاہیے نہ کہ سیمنٹ کی تیار شدہ بوری پر، کیونکہ فینشڈ پروڈکٹ پر رائلٹی عائد کرنے سے اس کا بوجھ بالآخر عوام پر منتقل ہوگا۔ جسٹس روزی خان نے کہا کہ فیکٹری مالکان کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ رائلٹی کا اثر عام صارف تک پہنچتا ہے، جس سے سیمنٹ کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ حکومت فینش پروڈکٹ پر رائلٹی کیسے وصول کر سکتی ہے اور کیا اس کے نتیجے میں سیمنٹ کی بوری کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اپنے لاء افسران کو اس معاملے پر واضح ہدایات دینی چاہئیں کہ اس نوعیت کا نفاذ قانونی طور پر مناسب نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:آن لائن بینک فراڈ کیس میں وفاقی آئینی عدالت کا شہری کے حق میں فیصلہ
عدالت میں وکیل احسن بھون نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت صرف معدنیات پر رائلٹی وصول کر سکتی ہے، جبکہ فینشڈ پروڈکٹ پر رائلٹی دراصل ایک بالواسطہ ٹیکس کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیمنٹ کی بوری پر رائلٹی کا نفاذ دراصل ڈبل ایکسائز ٹیکس کی وصولی کے برابر ہے۔
دورانِ سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے حکومت سے مزید ہدایات لینے کے لیے مہلت دینے کی استدعا کی، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے مزید وقت فراہم کر دیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب حکومت رائلٹی کیس سیمنٹ کیس وفاقی آئینی عدالت