چین کی نیوکلیئر پاور کا مجموعی پیمانہ پہلی بار دنیا میں پہلے نمبر پر، توانائی کی پیداوار میں مسلسل اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
چین کی نیوکلیئر پاور کا مجموعی پیمانہ پہلی بار دنیا میں پہلے نمبر پر، توانائی کی پیداوار میں مسلسل اضافہ WhatsAppFacebookTwitter 0 27 April, 2025 سب نیوز
بیجنگ : چائنا نیوکلیئر انرجی ایسوسی ایشن نے “چائنا نیوکلیئر انرجی ڈویلپمنٹ رپورٹ 2025” بلیو بک جاری کر دی ہے۔ بلیو بک کے مطابق، اب تک چین میں فعال ، زیر تعمیر اور منظور شدہ نیوکلیئر پاور یونٹس کی کل تعداد 102 ہے، جن کی تنصیبی صلاحیت 113 ملین کلوواٹ تک پہنچ چکی ہے۔
اس کے ساتھ ہی چین کی نیوکلیئر پاور کا مجموعی پیمانہ پہلی بار دنیا میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔
چین میں جوہری بجلی کی پیداوار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔2024 میں، ملک بھر میں فعال نیوکلیئر پاور یونٹس کی مجموعی بجلی کی پیداوار 444.
بلیو بک کے مطابق نہ صرف جوہری توانائی کے پیمانے میں توسیع جاری ہے بلکہ چین کی جوہری توانائی کی ٹیکنالوجی کی آزاد جدت طرازی کی صلاحیت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسندھ طاس معاہدہ معطل، بھارت راوی، ستلج اور بیاس کے پانی پر حق کھو بیٹھا: محمد علی درانی ٹرمپ کی حمایت یافتہ ورلڈ لبرٹی فنانشل کا پاکستان کرپٹو کونسل کے ساتھ معاہدہ طے پاگیا اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور سی ڈی اے آفیسرز ایسوسی ایشن کا اسلام آباد کی ترقی کے لیے اشتراک پر اتفاق تجارتی تحفظ پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے، چینی وزیر خارجہ چوتھے عالمی میڈیا انوویشن فورم کا چین کے صوبہ شان دونگ کے شہر چھو فو میں انعقاد امریکہ کی جانب سے محصولات کا بےجا استعمال ترقی پذیر ممالک کے لیے سنگین چیلنج ہے، چین جدیدیت اور اصلاحات کے حوالے سے چین کے تجربے سے بہت سے ممالک مستفید ہو سکتے ہیں، صدر آذربائیجانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: نیوکلیئر پاور کی پیداوار دنیا میں چین کی
پڑھیں:
بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔
اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔
اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔
امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔
اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔