فوٹو اسکرین گریپ فیس بک

 سندھ کے سینئر وزیر اور پیپلز پارٹی کے رہنما ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل میں نہر منصوبے کے خاتمے کا فیصلہ نہیں ہوا تو حکومت سے علیحدہ ہوجائیں گے۔

کراچی میں ایم کیو ایم رہنماؤں سے  ملاقات کے بعد گفتگو میں ناصر حسین شاہ نے کہا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف، صدر مملکت آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ہونے والا فیصلہ حتمی ہے۔

ناصر شاہ نے کہا کہ کینالز کا مسئلہ بہت حساس معاملہ ہے، کینال کے مسئلے پر ایم کیو ایم پاکستان نے ہمیں بھرپور سپورٹ کیا۔

رہنما ایم کیو ایم پاکستان فاروق ستار نے کہا کہ آج ناصر شاہ کی سربراہی میں پیپلز پارٹی کا ایک وفد ہمارے پاس آیا ہے، پیپلز پارٹی وفد کے ساتھ بہت مفید گفتگو ہوئی، ماضی میں بھی پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے حق میں دستبردار ہوئے، ایک ساتھ مل بیٹھنے سے سندھ کے عوام میں اچھا تاثر جاتا ہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ وفاق میں ہم ان کے اتحادی ہیں چاہے انہوں نے وزارت لی ہو یا نہ ہو۔ ہمیں انتخابی ملاقاتوں سے ہٹ کر بھی عوامی مسائل کےلیے ساتھ بیٹھنا چاہیے، اگر یہ رابطے نہیں ہونگے تو ہمارا ایک دوسرے کےلیے سخت موقف ہی رہے گا۔

ناصر شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ بہتری کی بات کی ہے، ترقیاتی کام ہوا ہے اور ہو بھی رہا ہے، ایم کیو ایم نے اچھی تجاویز دی ہیں ان پر کام کریں گے۔

انکا کہنا تھا کہ سینیٹ کی نشست حاصل کرنے کےلیے ہمارے نمبرز پورے ہیں، ہم یہاں ایک اچھا تاثر لے کر آئے ہیں، کراچی میں بہتری کےلیے بہت زیادہ فنڈز کی ضرورت ہے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ مصطفیٰ کمال کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے کہا کہ کراچی کو سب سے زیادہ پیسے آصف زرداری کے دور میں ملے، 2013 سے 2022 تک سندھ کےلیے سب سے کم اسکیمیں رکھی گئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس بار وفاقی حکومت نے سندھ کا حصہ 3 فیصد سے بڑھا کر کم سے کم دس فیصد کر دیا ہے۔ 10، 15 ارب سے کراچی کےلیے کچھ نہیں ہوتا، وفاق کو کراچی کا حصہ بڑھانا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی ایم کیو ایم شاہ نے کہا نے کہا کہ ناصر شاہ

پڑھیں:

کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی

 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔

مزید پڑھیں

لاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال

اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو