دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان نے 90 ہزار جانوں کی قربانی دی ہے، وفاقی وزیراطلاعات
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان نے 90 ہزار جانوں کی قربانی دی ہے، وفاقی وزیراطلاعات WhatsAppFacebookTwitter 0 27 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)وفاقی وزیراطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف میں پاکستان نے 90 ہزار جانیں قربان کی ہیں اور اس جنگ میں پاکستانی معیشت کو کھربوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔اسلام آباد میں غیرملکی میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا کہ ہمیں سب سے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکا رہے، کسی بھی ملک نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار جانیں قربان نہیں کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن ریاست ہیں، اس جنگ میں ہماری سیکیورٹی فورسز، پولیس، ایجنسیوں اور عوام نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ اف انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی وجہ سے ہمارے معیشت کو کھربوں ڈالر کا نقصان پہنچا ہے، اور ہم آج بھی ان دہشت گردوں، فنتہ الخوارج سے نبرد آزما ہیں، دنیا کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن ریاست اور دہشتگردی اور دنیا کے درمیان دیوار ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ اس صورتحال میں پاکستان کو مضبوط کیے جانے اور حمایت کی ضرورت ہے، اور پاکستان نے دہشت گردی اور دہشتگردوں کے خلاف اپنا کردار ادا کیا ہے اور اب بھی کررہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان کا ذکر کروں گا، اور حال ہی میں آپ نے جعفر ایکسپریس کا واقعہ دیکھا جو ایک غیرمعمولی واقعہ تھا، جس میں ایک پوری ٹرین کو یرغمال بنالیا گیا، اس واقعے کی دنیا بھر نے مذمت کی، مگر بھارت نے ایسا نہیں کیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت خود دہشت گردی میں ملوث ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بھارتی بحریہ کے افسر کلبھوش یادو کو گرفتار جو دہشت گردانہ سرگرمیوں ملوث تھا جس کے ہمارے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹرمپ کی حمایت یافتہ ورلڈ لبرٹی فنانشل کا پاکستان کرپٹو کونسل کیساتھ معاہدہ طے پاگیا ٹرمپ کی حمایت یافتہ ورلڈ لبرٹی فنانشل کا پاکستان کرپٹو کونسل کیساتھ معاہدہ طے پاگیا مشترکہ مفادات کونسل میں کینال کا مسئلہ حل نہ ہوا تو حکومت سے الگ ہوجائیں گے، صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ ہلاک 54خوراج کو بیرونی آقائوں نے دہشتگردی کیلئے پاکستان بھیجا، محسن نقوی پاکستان کی موثر سفارتکاری، بھارت پہلگام واقعہ کیخلاف قرارداد میں مرضی کے الفاظ شامل کرانے میں ناکام انتخابی ٹربیونلز میں 37فیصد درخواستوں کے فیصلے مکمل،فافن ہر طرح کی دہشتگردی قابل مذمت ،پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے، نواز شریفCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وفاقی وزیراطلاعات انہوں نے کہا کہ گردی کے خلاف خلاف جنگ میں میں پاکستان پاکستان نے گردی کی
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔