بیجنگ :چین کی وزارت قدرتی وسائل کے تحت ساؤتھ چائنا سی ڈویلپمنٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے تھیئَے شیئن جیاؤ اورنیو عہ جیاؤ کی چٹانوں کے ماحولیاتی نظام پر ایک سروے رپورٹ جاری کی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق تھیئَے شیئن جیاؤ کا کورل ریف ماحولیاتی نظام شدید تنزلی کا شکار ہے جبکہ نیو عہ جیاؤ کا کورل ریف ماحولیاتی نظام صحت مند ہے۔تھیئَے شیئن جیاؤ اور نیو عہ جاؤ چین کے جزائر نان شا کا حصہ ہیں۔ سروے کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ تھیئَے شیئن جیاؤ کا کورل ریف ماحولیاتی نظام شدید تنزلی کا شکار ہونے کی بنیادی وجہ لمبے کانٹوں والی اسٹار فش کا پھیلنا ہے۔ ساتھ ساتھ، فلپائن نے طویل عرصے سے سیکڑوں افراد کے چونگ یے داؤ میں غیر قانونی طور پر رہنے کا بندوبست کر رکھا ہے اور 2018 سے تعمیرات بھی جاری رکھی ہوئی ہیں ۔ یہ سرگرمیاں تھیئَے شیئن جیاؤ اور چونگ یے داؤ کے کورل ریف کے ماحولیاتی نظام کو خاصا نقصان پہنچائیں گی۔ سروے رپورٹ کے مطابق تھیئَے شیئن جیاؤ پر تین سینڈ بار اور نیو عہ پر ایک سینڈبار ہے اور یہ چاروں سینڈ بار قدرتی طور پر بنتی ہیں ۔ فلپائن کا یہ دعوی من گھڑت ہے کہ چین نے تھیئَے شیئن جیاؤ پر مرجان کا ملبہ پھینکا ہے اور بعض ممالک کی طرف سے یہ افواہ پھیلائی گئی ہے کہ یہ سینڈبار چین کی زمین کی بحالی” کے عمل سے بنی ہے جو کہ مکمل طور پر غیر سائنسی اور حقیقت کے برعکس ہے ۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ماحولیاتی نظام کورل ریف نیو عہ

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے