ذی القعدہ کے چاند سے متعلق سپارکو کی اہم پیش گوئی
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
ویب ڈیسک: ذی القعدہ کے چاند کی رویت کے لیے اسپیس اینڈ اپر ایٹماسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) نے پیش گوئی کر دی ہے۔
اسپیس اینڈ اپر ایٹماسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) نے اعلان کیا ہے کہ ذوالقعدہ 1446 ہجری کے نئے چاند کی پیدائش 28 اپریل 2025 کی رات 12:31 پر متوقع ہے۔ 28 اپریل کو غروب آفتاب کے وقت، نئے چاند کی عمر تقریباً 18 گھنٹے اور 51 منٹ ہوگی۔
ملک کے ساحلی علاقوں میں غروب آفتاب اور چاند غروب کے درمیان کا دورانیہ 53 منٹ ہونے کی توقع ہے، جو نئے چاند کی رویت کے لیے سازگار حالات فراہم کرے گی۔
لاہور پارکنگ کمپنی کی جانب سے’ٹریس ایبل‘ پارکنگ ٹکٹس متعارف
فلکیاتی پیرا میٹرز کی بنیاد پر، ذوالقعدہ کا نیا چاند 28 اپریل 2025 کی شام کو صاف موسمی حالات میں ممکن ہے۔ نتیجتاً، یکم ذوالقعدہ 29 اپریل 2025 کو پڑنے کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: چاند کی
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔