اسلام آباد:سینیٹر عرفان صدیقی نے پہلگام واقعے کے بعد بھارت کی گیدڑ بھبکیوں پر رد عمل ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کوئی بابری مسجد نہیں ہے کہ آپ کے چند غنڈے آئیں اور اس کو ختم کر دیں، پاکستان ایک آزاد ملک ہے۔

سینیٹ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلگام واقعہ کے بعد ملک میں سب کا یکجا ہونا انتہائی خوش آئند ہے، مودی کو گجرات کے قصاب کا خطاب دیا گیا جس کو انہوں نے اعزاز سمجھا کہ کس طرح مسلمانوں کو کچلا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ایک شخص کے رویے کے باعث دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت سب سے بڑی قتل گاہ بن گئی، بارہ ہزار کے قریب ہماری کشمیری بہنوں کی آبرو ریزی کی گئی، وہاں کی مسلم آبادی کو دیکھیں تو ہر سات افراد کے ساتھ ایک بندوق بردار کھڑا ہے، مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا گیا۔

ان کا کہنا تھاکہ ڈیڑھ کروڑ کے قریب کی آبادی کا توازن ختم کر دیا گیا، پہلگام وہ سیاحتی مقام ہے جہاں بڑی تعداد میں سیاح آتے ہیں، یہاں ایک واردات ہوئی اور دن دیہاڑے ہوئی۔

عرفان صدیقی نے کہا کہ بھارتی موقف کے مطابق چار افراد آئے، لوگوں کو قتل کر کے کہیں خلا میں چلے گئے؟ کیسے ان افراد نے کاروائی کی، سات لاکھ فوج کہاں تھی؟ وہ فوج جو ہر وقت کشمیریوں کے سر پر سوار رہتی ہے، پہلگام ہمارے ایل او سی سے دو سو کلو میٹر دور ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیسے دو سو کلو میٹر دور جا کر حملہ کیا جا سکتا ہے، ان کے پہرے دار ہر جگہ کھڑے ہوتے ہیں، ایک ملزم ابھی تک نہیں پکڑا گیا، اور دس منٹ گزرے کے الزام پاکستان پر لگ جاتا ہے، لگتا ہے ایف آئی آر پہلے کٹی ہوئی تھی اور واقعہ بعد میں ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعات پس منظر کے ساتھ ہوتے ہیں، امریکا کے نائب صدر تشریف لے آئے تو وہاں 27 افراد زبح کر دیے گئے، صرف یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ حملہ پاکستان نے کیا، پاکستان کوئی بابری مسجد نہیں کہ آپ کے چند غنڈے آئیں اور اسکو ختم کر دیں، پاکستان ایک آزاد ملک ہے۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق

ولی خان کے علاقے میں نامعلوم افراد نے سیشن جج کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ڈی پی او اللہ بخش بلوچ کے مطابق فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا گن مین جاں بحق ہوگئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت 2 افراد شدید زخمی ہیں۔ڈی پی او کا بتانا ہے کہ سیشن جج اور ایڈیشنل سیشن جج کوئٹہ سے سیشن کورٹ مستونگ آرہے تھے، واقعے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق