Daily Sub News:
2026-06-03@07:59:03 GMT

پہلگام کاخونیں ناٹک !!

اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT

پہلگام کاخونیں ناٹک !!

پہلگام کاخونیں ناٹک !! WhatsAppFacebookTwitter 0 28 April, 2025 سب نیوز

تحریر: عرفان صدیقی

                حقیقت احوال جو بھی ہو، کبھی پنڈت جواہر لعل نہرو کا بھارت، سیکولرازم کو اپنے سَر کی کَلغی قرار دینے میں فخر محسوس کرتا تھا۔ دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا تمغہ سینے پر سجائے پھرتا تھا۔ نریندر مُودی نامی تہی مغز  اور  رعونت شعار شخص نے، گلی محلے کے اوباش کی طرح بھارت کے چہرے کا یہ نقاب بھی تارتار کر دیا ۔ بچپن سے ہی راشٹریہ سیوک سنگھ (RSS) کی آغوشِ دہشت میں پرورش پانے کے بعدگجرات کے وزیراعلی کے طورپر، نفرت وکدُورت میں گُندھی اُس کی سرشت نے بال وپر نکالے۔ 2002؁ کی مُسلم کُش مہم کی باقاعدہ منصوبہ بندی کرتے ہوئے اُس نے انتہا پسندوں کے جتھے تیار کئے۔ تین ہزار کے لگ بھگ مسلمان قتل کردئیے گئے۔ ہزاروں کے گھر اور کاروبار تباہ ہوگئے۔ خونِ مسلم کی اس اَرزانی نے، مُودی کو ’’گجرات کے قصاب‘‘ کا خطاب دیا۔ آج اُس کی بلائیں لینے والے امریکہ نے اُسے ویزا دینے سے انکارکردیا تھا۔مُودی نے اِ س قتل وغارت گری کو اپنی عروسِ سیاست کے عارض ورُخسار کا غازہ بناتے ہوئے اپنی سیاسی حکمتِ عملی کا بنیادی نکتہ بنالیا۔ اُس نے جان لیا کہ آگے بڑھنے، کانگرس کو پیچھے دھکیلنے، مذہب کے نام پر سستی جذباتیت اُبھارنے اور نفرت کی دراڑیں ڈالنے سے ہی وہ وزارت عظمیٰ کے منصب تک پہنچ سکتا ہے۔ سو اُس نے یہی راہ اختیار کی اور کامران ٹھہرا۔ آج مُودی کا بھارت اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کی قتل گاہ بن چکا ہے۔ بائیس کروڑ مسلم آبادی خوف وہراس کے عالم میں شب وروز گذار رہی ہے جس کی جوان نسل کے لئے، کسی بھی شعبۂِ زندگی میں ہنرآزمانے کے تمام راستے بند ہیں۔ نریندر مُودی بڑی محنت اور لگن کے ساتھ نفرتوں کی فصل پروان چڑھا  رہا ہے۔ بھارتی معاشرہ، تحمل، برداشت، ہمدردی، مذہبی رواداری اور پُرامن بقائے باہمی جیسی اُجلی انسانی اقدار کا مَرگھٹ بن چکا ہے۔ مُودی کی سیاسی حکمتِ عملی کا دوسرا  اہم جزو پاکستان دُشمنی ہے۔ وقفے وقفے سے پاکستان پر وار کرنا، بے سروپا الزام عاید کرنا، جھوٹ پر مبنی داستانیں گھڑ کر دنیا کو گمراہ کرنا، پاکستان کے اندر دہشت گردی کرنے والے ملک دشمن عناصر کو ہر نوع کے وسائل فراہم کرنا، خوارج اور انتشاری قوتوں کی پرورش ونمو، اسکی بڑی ترجیحات بن چکی ہیں۔ یہی اُس کی سیاسی کامیابی کی کلید ہے جس کے ذریعے وہ گیارہ برس سے ’پردھان منتری‘ کی کرسی پر بیٹھا ہے۔

                مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال، غزہ سے کم سنگین نہیں۔ گذشتہ تین دہائیوں میں 90 ہزار سے زائد کشمیری شہید ہوچکے ہیں۔ پچیس ہزار خواتین بیوگی کی سیاہ چادریں اوڑھے بیٹھی ہیں۔ دس ہزار سے زائد دُخترانِ کشمیر کی عصمتیں لٹ چکی ہیں۔ ہزاروں جیلوں میں گَل سڑ رہے ہیں۔ اُن کی عبادت گاہیں محفوظ ہیں نہ کاروبار، گھر نہ جائیدادیں۔ 2019؁ میں بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 پر بھی کلہاڑا چلا دیا گیا جو مقبوضہ جموں وکشمیر کو خصوصی تحفظات دیتا تھا۔ اب وہاں تیزی سے اکثریت کو اقلیت میں بدلا جا  رہا ہے۔ زور زبردستی سے بھارت میں ضم کردیا جانے والا خطۂِ جنت نظیر، آہستہ آہستہ تحلیل ہوکر نفرتوں کی چتا کا رزق بن رہا ہے۔

                ماضی کی متعدد دہشت گردانہ وارداتوں کی طرح، پہلگام بھی ، ہر پہلو سے بھارتی خفیہ کاروں کی ٹیکسال میں ڈھلا منصوبہ دکھائی دیتا ہے۔ سات لاکھ سے زائد بھارتی فوج، بستی بستی، گلی گلی مورچے سنبھالے بیٹھی ہے۔ قدم قدم پر چوکیاں ہیں۔ ہر آٹھ کشمیریوں پر ایک بندوق بردار کھڑا ہے۔ پہلگام کے معروف سیاحتی مقام پر ایسے واقعات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں۔ بھارتی فوج اور اُس کی ایجنسیاں کہاں تھیں؟ غیرملکی یا مُلکی سیاحوں کو بھیڑ بکریوں کے لاوارث گَلّے کی طرح کیوں چھوڑ دیاگیا؟ بھارتی کہانی کے مطابق صرف چار دہشت گردوں کو اتنا وقت کیسے ملا کہ وہ سرِبازار، ایک ایک سیاح کا انٹرویو لیتے، شناخت کرتے اور بصد اطمینان اُن کے سینوں میں گولیاں داغتے رہیں؟ ابھی کسی زخمی کو ہسپتال بھی نہیں پہنچایا گیا تھا کہ دس منٹ کے اندر اندر پاکستان کے خلاف ایف۔آئی۔آر کٹ گئی اور اُسے کٹہرے میں کھڑا کردیاگیا۔ کشمیر کو تقسیم کرنے والی 740 کلو میٹر طویل لائن آف کنٹرو ل پر بلند قامت فولادی باڑ لگی ہے۔ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر، تیز روشنی میں چار سُو نگاہ رکھنے والی چوکیاں ہیں۔ اس باڑ سے پہلگام کافاصلہ دو سو کلومیٹر سے زائد ہے۔ ’’پاکستانی دہشت گرد‘‘ کون سی طلسماتی اڑن طشتری میں بیٹھ کر آئے  اور  دو  درجن سے زائد سیاحوں کو ہلاک کرکے سہولت کے ساتھ واپس چلے گئے؟ اگر آس پاس کوئی جنگل بھی ہے تو کس قدر  گھنا ہے کہ دہشت گرد  وہاں خیمے گاڑے بیٹھے رہے، تربیت لی، منصوبہ تیار کیا، ریہرسل کی اور پھر ہتھیاروں سے مسلح ہوکر سیاحت گاہ میں آئے  اور بہ سہولت واردات کرکے ٹہلتے ہوئے جنگل میں واپس چلے گئے۔ بار بار تقاضا کرنے کے باوجود بھارت ایک بھی ثبوت سامنے نہیں لاسکا جو  اِس خوں ریزی کا تعلق پاکستان سے جوڑتا ہو۔ پھر بھی بھارتی توپوں کا رُخ مسلسل پاکستان کی طرف ہے۔ زہر اُگلا جارہا ہے۔ جنگی جنون کو ہوا دی جا رہی ہے۔ بلوغت سے عاری طفلانہ اعلانات اور اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ 65 سالہ پرانے سندھ طاس منصوبے کو معطل کرکے آبی جارحیت کی دھمکی دی جا  رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت سندھ، چناب اور جہلم کے بہائو کو  روکنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔ ایسا کرنے کے لئے اُسے آٹھ دس سال کا وقت چاہیے۔ کیا پاکستان اتنا عرصہ ’دَشتِ کربلا‘ بننے کے انتظار میں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھا رہے گا؟  اور اگر بھارت تمام عالمی قوانین، باہمی معاہدوں اور مسلّمہ اخلاقیات کو پائوں تلے روند کر ہمارے حصے کے دریائوں کا گلا گھونٹنے کی روایت ڈالے گا تو براہما پُترا، سندھ اور ستلج کا کیا بنے گا جن کے دہانے چین میں ہیں؟

                بھارت ایک بڑی عسکری قوت سہی، اُس کا دفاعی بجٹ ہم سے دَس گُنا زیادہ سہی، اُس کااسلحہ خانہ ہلاکت آفریں ہتھیاروں سے لبریز سہی، لیکن بھارت کو اتنی خبر تو ہونی چاہیے کہ بندوقوں، مشین گنوں، توپوں، ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں والا زمانہ لَد گیا۔ پاکستان اور بھارت دونوں کی ٹوکریوں میں ناقابلِ تصوّر تباہ کاری پھیلانے والے تابکاری انڈے دھرے ہیں۔

                عالم یہ ہے کہ پہلگام دہشت گردی کے مبیّنہ چار ملزموں میں سے ابھی تک کوئی ایک بھی گرفت میں نہیں آیا۔ تحقیق وتفتیش کے لئے اب یہ معاملہ نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (NIA) کے سپرد کردیا گیا ہے۔ آج ایک ہفتہ ہوگیا۔ اپنے اور دنیا بھر کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے ٹامک ٹوئیاں جاری ہیں۔ بات بن نہیں پا رہی   اور جھنجھلاہٹ بڑھ رہی ہے۔ اچھا ہوتا کہ ’’فالس فلیگ آپریشن‘‘ کے سکرپٹ رائٹرز، پاکستان کے ملوث ہونے کے ’’شواہد‘‘ کو بھی جعلی تمثیل میں سمو دیتے۔ جب بھی امریکہ سے کوئی بڑا، بھارت کے دورے پہ آتا ہے، بھارت صرف پاکستان پر الزام دھرنے کے لئے آگ اور بارود کا ایسا تماشا ضرور  رچاتا ہے۔ 2000؁ میں صدر کلنٹن کے دورے کو چالیس کے لگ بھگ سکھوں کے لہو کا نذرانہ پیش کیا گیا  اور اب گرم جوش میزبانی کے لئے امریکی نائب صدر کے حضور  دو  درجن سے زائد سیاحوں کے سرطشت میں سجا کر نذر کردیے گئے۔ میزبانی کا حق تو ادا ہوگیا لیکن دنیا کے بازارِ سیاست میں، بھارتی بیانیے کا خریدار کوئی نہیں۔ یہ صورتِ حال مُودی کا فشارِ خون بڑھا رہی ہے۔ وہ اثرات ونتائج سے بے نیاز ہوکر کوئی بھی احمقانہ قدم اٹھاسکتا ہے__ یہ الگ بات کہ اُسے جواب میں وہی کچھ ملے گا جو کسی بھی احمقانہ قدم کے ردّعمل میں ملا کرتا ہے۔

٭٭٭٭٭

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمودی سرکار کی بوکھلاہٹ: شعیب اختر کا یوٹیوب چینل بھارت میں بند سندھ طاس معاہدے پر بھارت کے یکطرفہ اقدامات اور شملہ معاہدے کی معطلی: قانونی نقطہ نظر اور ماں چلی گئی ماں کے بغیر پہلی عید کا کرب محکمہ موسمیات کی عید سے قبل بادل برسنے کی خوشخبری پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی اور خاندانی منصوبہ بندی ماہ رمضان: روح کے لیے ایک الہامی ریفریشر کورس TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی