Daily Sub News:
2026-07-24@09:53:43 GMT

پہلگام کاخونیں ناٹک !!

اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT

پہلگام کاخونیں ناٹک !!

پہلگام کاخونیں ناٹک !! WhatsAppFacebookTwitter 0 28 April, 2025 سب نیوز

تحریر: عرفان صدیقی

                حقیقت احوال جو بھی ہو، کبھی پنڈت جواہر لعل نہرو کا بھارت، سیکولرازم کو اپنے سَر کی کَلغی قرار دینے میں فخر محسوس کرتا تھا۔ دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا تمغہ سینے پر سجائے پھرتا تھا۔ نریندر مُودی نامی تہی مغز  اور  رعونت شعار شخص نے، گلی محلے کے اوباش کی طرح بھارت کے چہرے کا یہ نقاب بھی تارتار کر دیا ۔ بچپن سے ہی راشٹریہ سیوک سنگھ (RSS) کی آغوشِ دہشت میں پرورش پانے کے بعدگجرات کے وزیراعلی کے طورپر، نفرت وکدُورت میں گُندھی اُس کی سرشت نے بال وپر نکالے۔ 2002؁ کی مُسلم کُش مہم کی باقاعدہ منصوبہ بندی کرتے ہوئے اُس نے انتہا پسندوں کے جتھے تیار کئے۔ تین ہزار کے لگ بھگ مسلمان قتل کردئیے گئے۔ ہزاروں کے گھر اور کاروبار تباہ ہوگئے۔ خونِ مسلم کی اس اَرزانی نے، مُودی کو ’’گجرات کے قصاب‘‘ کا خطاب دیا۔ آج اُس کی بلائیں لینے والے امریکہ نے اُسے ویزا دینے سے انکارکردیا تھا۔مُودی نے اِ س قتل وغارت گری کو اپنی عروسِ سیاست کے عارض ورُخسار کا غازہ بناتے ہوئے اپنی سیاسی حکمتِ عملی کا بنیادی نکتہ بنالیا۔ اُس نے جان لیا کہ آگے بڑھنے، کانگرس کو پیچھے دھکیلنے، مذہب کے نام پر سستی جذباتیت اُبھارنے اور نفرت کی دراڑیں ڈالنے سے ہی وہ وزارت عظمیٰ کے منصب تک پہنچ سکتا ہے۔ سو اُس نے یہی راہ اختیار کی اور کامران ٹھہرا۔ آج مُودی کا بھارت اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کی قتل گاہ بن چکا ہے۔ بائیس کروڑ مسلم آبادی خوف وہراس کے عالم میں شب وروز گذار رہی ہے جس کی جوان نسل کے لئے، کسی بھی شعبۂِ زندگی میں ہنرآزمانے کے تمام راستے بند ہیں۔ نریندر مُودی بڑی محنت اور لگن کے ساتھ نفرتوں کی فصل پروان چڑھا  رہا ہے۔ بھارتی معاشرہ، تحمل، برداشت، ہمدردی، مذہبی رواداری اور پُرامن بقائے باہمی جیسی اُجلی انسانی اقدار کا مَرگھٹ بن چکا ہے۔ مُودی کی سیاسی حکمتِ عملی کا دوسرا  اہم جزو پاکستان دُشمنی ہے۔ وقفے وقفے سے پاکستان پر وار کرنا، بے سروپا الزام عاید کرنا، جھوٹ پر مبنی داستانیں گھڑ کر دنیا کو گمراہ کرنا، پاکستان کے اندر دہشت گردی کرنے والے ملک دشمن عناصر کو ہر نوع کے وسائل فراہم کرنا، خوارج اور انتشاری قوتوں کی پرورش ونمو، اسکی بڑی ترجیحات بن چکی ہیں۔ یہی اُس کی سیاسی کامیابی کی کلید ہے جس کے ذریعے وہ گیارہ برس سے ’پردھان منتری‘ کی کرسی پر بیٹھا ہے۔

                مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال، غزہ سے کم سنگین نہیں۔ گذشتہ تین دہائیوں میں 90 ہزار سے زائد کشمیری شہید ہوچکے ہیں۔ پچیس ہزار خواتین بیوگی کی سیاہ چادریں اوڑھے بیٹھی ہیں۔ دس ہزار سے زائد دُخترانِ کشمیر کی عصمتیں لٹ چکی ہیں۔ ہزاروں جیلوں میں گَل سڑ رہے ہیں۔ اُن کی عبادت گاہیں محفوظ ہیں نہ کاروبار، گھر نہ جائیدادیں۔ 2019؁ میں بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 پر بھی کلہاڑا چلا دیا گیا جو مقبوضہ جموں وکشمیر کو خصوصی تحفظات دیتا تھا۔ اب وہاں تیزی سے اکثریت کو اقلیت میں بدلا جا  رہا ہے۔ زور زبردستی سے بھارت میں ضم کردیا جانے والا خطۂِ جنت نظیر، آہستہ آہستہ تحلیل ہوکر نفرتوں کی چتا کا رزق بن رہا ہے۔

                ماضی کی متعدد دہشت گردانہ وارداتوں کی طرح، پہلگام بھی ، ہر پہلو سے بھارتی خفیہ کاروں کی ٹیکسال میں ڈھلا منصوبہ دکھائی دیتا ہے۔ سات لاکھ سے زائد بھارتی فوج، بستی بستی، گلی گلی مورچے سنبھالے بیٹھی ہے۔ قدم قدم پر چوکیاں ہیں۔ ہر آٹھ کشمیریوں پر ایک بندوق بردار کھڑا ہے۔ پہلگام کے معروف سیاحتی مقام پر ایسے واقعات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں۔ بھارتی فوج اور اُس کی ایجنسیاں کہاں تھیں؟ غیرملکی یا مُلکی سیاحوں کو بھیڑ بکریوں کے لاوارث گَلّے کی طرح کیوں چھوڑ دیاگیا؟ بھارتی کہانی کے مطابق صرف چار دہشت گردوں کو اتنا وقت کیسے ملا کہ وہ سرِبازار، ایک ایک سیاح کا انٹرویو لیتے، شناخت کرتے اور بصد اطمینان اُن کے سینوں میں گولیاں داغتے رہیں؟ ابھی کسی زخمی کو ہسپتال بھی نہیں پہنچایا گیا تھا کہ دس منٹ کے اندر اندر پاکستان کے خلاف ایف۔آئی۔آر کٹ گئی اور اُسے کٹہرے میں کھڑا کردیاگیا۔ کشمیر کو تقسیم کرنے والی 740 کلو میٹر طویل لائن آف کنٹرو ل پر بلند قامت فولادی باڑ لگی ہے۔ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر، تیز روشنی میں چار سُو نگاہ رکھنے والی چوکیاں ہیں۔ اس باڑ سے پہلگام کافاصلہ دو سو کلومیٹر سے زائد ہے۔ ’’پاکستانی دہشت گرد‘‘ کون سی طلسماتی اڑن طشتری میں بیٹھ کر آئے  اور  دو  درجن سے زائد سیاحوں کو ہلاک کرکے سہولت کے ساتھ واپس چلے گئے؟ اگر آس پاس کوئی جنگل بھی ہے تو کس قدر  گھنا ہے کہ دہشت گرد  وہاں خیمے گاڑے بیٹھے رہے، تربیت لی، منصوبہ تیار کیا، ریہرسل کی اور پھر ہتھیاروں سے مسلح ہوکر سیاحت گاہ میں آئے  اور بہ سہولت واردات کرکے ٹہلتے ہوئے جنگل میں واپس چلے گئے۔ بار بار تقاضا کرنے کے باوجود بھارت ایک بھی ثبوت سامنے نہیں لاسکا جو  اِس خوں ریزی کا تعلق پاکستان سے جوڑتا ہو۔ پھر بھی بھارتی توپوں کا رُخ مسلسل پاکستان کی طرف ہے۔ زہر اُگلا جارہا ہے۔ جنگی جنون کو ہوا دی جا رہی ہے۔ بلوغت سے عاری طفلانہ اعلانات اور اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ 65 سالہ پرانے سندھ طاس منصوبے کو معطل کرکے آبی جارحیت کی دھمکی دی جا  رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت سندھ، چناب اور جہلم کے بہائو کو  روکنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔ ایسا کرنے کے لئے اُسے آٹھ دس سال کا وقت چاہیے۔ کیا پاکستان اتنا عرصہ ’دَشتِ کربلا‘ بننے کے انتظار میں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھا رہے گا؟  اور اگر بھارت تمام عالمی قوانین، باہمی معاہدوں اور مسلّمہ اخلاقیات کو پائوں تلے روند کر ہمارے حصے کے دریائوں کا گلا گھونٹنے کی روایت ڈالے گا تو براہما پُترا، سندھ اور ستلج کا کیا بنے گا جن کے دہانے چین میں ہیں؟

                بھارت ایک بڑی عسکری قوت سہی، اُس کا دفاعی بجٹ ہم سے دَس گُنا زیادہ سہی، اُس کااسلحہ خانہ ہلاکت آفریں ہتھیاروں سے لبریز سہی، لیکن بھارت کو اتنی خبر تو ہونی چاہیے کہ بندوقوں، مشین گنوں، توپوں، ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں والا زمانہ لَد گیا۔ پاکستان اور بھارت دونوں کی ٹوکریوں میں ناقابلِ تصوّر تباہ کاری پھیلانے والے تابکاری انڈے دھرے ہیں۔

                عالم یہ ہے کہ پہلگام دہشت گردی کے مبیّنہ چار ملزموں میں سے ابھی تک کوئی ایک بھی گرفت میں نہیں آیا۔ تحقیق وتفتیش کے لئے اب یہ معاملہ نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (NIA) کے سپرد کردیا گیا ہے۔ آج ایک ہفتہ ہوگیا۔ اپنے اور دنیا بھر کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے ٹامک ٹوئیاں جاری ہیں۔ بات بن نہیں پا رہی   اور جھنجھلاہٹ بڑھ رہی ہے۔ اچھا ہوتا کہ ’’فالس فلیگ آپریشن‘‘ کے سکرپٹ رائٹرز، پاکستان کے ملوث ہونے کے ’’شواہد‘‘ کو بھی جعلی تمثیل میں سمو دیتے۔ جب بھی امریکہ سے کوئی بڑا، بھارت کے دورے پہ آتا ہے، بھارت صرف پاکستان پر الزام دھرنے کے لئے آگ اور بارود کا ایسا تماشا ضرور  رچاتا ہے۔ 2000؁ میں صدر کلنٹن کے دورے کو چالیس کے لگ بھگ سکھوں کے لہو کا نذرانہ پیش کیا گیا  اور اب گرم جوش میزبانی کے لئے امریکی نائب صدر کے حضور  دو  درجن سے زائد سیاحوں کے سرطشت میں سجا کر نذر کردیے گئے۔ میزبانی کا حق تو ادا ہوگیا لیکن دنیا کے بازارِ سیاست میں، بھارتی بیانیے کا خریدار کوئی نہیں۔ یہ صورتِ حال مُودی کا فشارِ خون بڑھا رہی ہے۔ وہ اثرات ونتائج سے بے نیاز ہوکر کوئی بھی احمقانہ قدم اٹھاسکتا ہے__ یہ الگ بات کہ اُسے جواب میں وہی کچھ ملے گا جو کسی بھی احمقانہ قدم کے ردّعمل میں ملا کرتا ہے۔

٭٭٭٭٭

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمودی سرکار کی بوکھلاہٹ: شعیب اختر کا یوٹیوب چینل بھارت میں بند سندھ طاس معاہدے پر بھارت کے یکطرفہ اقدامات اور شملہ معاہدے کی معطلی: قانونی نقطہ نظر اور ماں چلی گئی ماں کے بغیر پہلی عید کا کرب محکمہ موسمیات کی عید سے قبل بادل برسنے کی خوشخبری پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی اور خاندانی منصوبہ بندی ماہ رمضان: روح کے لیے ایک الہامی ریفریشر کورس TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • ایشین گیمز: پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا