Express News:
2026-06-03@03:18:57 GMT

بلیک آؤٹ؛ اسپین، فرانس اور پرتگال تاریکی میں ڈوب گئے

اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT

فرانس، اسپین اور پرتگال میں بڑے پیمانے پر ہونے والے بلیک آؤٹ نے لاکھوں افراد کو بجلی سے محروم کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسپین اور پرتگال کی حکومتوں نے ہنگامی کابینہ اجلاس طلب کرلیے۔

ان ممالک کے متعدد علاقوں میں ٹریفک کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا جس سے ہائی ویز پر گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔

سگنل بند ہونے کی وجہ سے شدید ٹریفک جام رہا جب کہ ہوائی اڈے پر بھی متعدد پروازوں میں تاخیر ہوئی۔

پرتگال کے یوٹیلیٹی ادارے "REN" نے تصدیق کی کہ یہ بجلی کا بحران پورے آئبیریائی جزیرہ نما (Iberian Peninsula) اور فرانس کے کچھ حصوں میں بھی ہوا۔

پرتگالی ادارے REN کے ترجمان نے بتایا کہ بجلی کی سپلائی کی بحالی کے تمام منصوبے فعال کر دیے گئے۔ یورپ کے توانائی پیدا کرنے والے آپریٹرز کے ساتھ مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔

اسپین کے گرڈ آپریٹر "Red Electrica" نے بتایا کہ وہ علاقائی توانائی کمپنیوں کے ساتھ مل کر بجلی بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسپین کے ریڈیو اسٹیشنوں کے مطابق، میڈرڈ کے انڈر گراؤنڈ (سب وے) کے کچھ حصوں کو خالی کروایا گیا۔

رائٹرز کو ایک عینی شاہد نے بتایا کہ میڈرڈ کی گلیوں میں سیکڑوں افراد دفتری عمارتوں سے باہر نکل کرآئے تھے جب کہ اہم اور حساس عمارتوں کے گرد پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق میڈرڈ کی مشہور چار ٹاوروں میں سے ایک کو خالی کرا لیا گیا جہاں برطانوی سفارت خانہ بھی واقع ہے۔ 

مقامی ریڈیو رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کئی لوگ رکی ہوئی میٹرو ٹرینوں اور لفٹوں میں پھنس گئے تھے۔

پرتگالی پولیس کے مطابق، پورے ملک میں ٹریفک لائٹس بند ہو گئیں، لزبن اور پورٹو میں میٹرو سروس معطل ہو گئی، جبکہ ٹرینوں کی آمدورفت بھی رک گئی۔

پرتگالی ایئرلائن TAP کے ذرائع کے مطابق، لزبن ایئرپورٹ بیک اپ جنریٹرز پر چل رہا ہے۔

اسپین میں 46 ہوائی اڈے چلانے والے ادارے AENA نے ملک بھر میں پروازوں میں تاخیر کی اطلاع دی ہے۔

فرانس میں گرڈ آپریٹر "RTE" نے بتایا کہ وہاں بھی عارضی طور پر بجلی کا تعطل ہوا تھا تاہم اب بجلی بحال کر دی گئی ہے۔

تاحال ان تینوں ممالک میں ایک ہی وقت ہونے والے بجلی کے پُراسرار بریک ڈاؤن کی وجہ کا تعین نہیں کیا جاسکا، واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے مطابق نے بتایا

پڑھیں:

ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا

ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟

سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔

یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔

مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔

تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔

تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید

ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی