کراچی سے شارٹ ٹرم اغوا میں ملوث 4 خطرناک ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
کراچی میں سی ٹی ڈی انٹیلیجنس ونگ نے ایک کارروائی میں شارٹ ٹرم اغوا میں ملوث 4 خطرناک ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
ملزمان شہریوں کو بلیک ویگو ڈبل کیبن میں اغواء کر کے حساس اداروں کا اہلکار ظاہر کرتے تھے۔ اغوا کار فیس ماسک، واکی ٹاکی، ہتھکڑیاں اور اسلحہ استعمال کرتے ہوئے اسٹیل ٹاؤن کے ویران علاقے میں لے جاتے تھے۔
گروہ تاوان وصول کرنے کے بعد شہریوں کو شہر کے دوسرے علاقوں میں چھوڑ دیتا تھا۔
صدر پارکنگ پلازہ کے قریب سے 4 ملزمان امتیاز عرف سلمان، عبید الرحمان عرف آبی، شاہد عرف موسیٰ اور سلیم کو گرفتار کیا گیا۔ ملزمان کے قبضے سے پستول، جعلی نمبر پلیٹ والی گاڑی، موبائل فونز، واکی ٹاکی اور ہتھکڑیاں برآمد کر لیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی: اغوا ہونے والا نوجوان غیور عباس بازیاب، 2 اغواکار گرفتار
ملزمان نے 13 اپریل کو پی آئی بی کالونی کے رہائشی محمد اسماعیل کو اغوا کر کے بٹ کوائن اور ہنڈی حوالہ کے متعلق معلومات حاصل کیں۔اغوا کے بعد محمد اسماعیل سے آئی فون چھین کر رقم طلب کی گئی اور ملیر 15 پر چھوڑ دیا گیا۔
ملزمان نے ایک اور واردات میں 20 اپریل کو فیصل ولد حاجی محمد مسکین کو اغوا کر کے اے ٹی ایم اور ایزی پیسہ سے 5 لاکھ روپے نکلوا تھے۔بعد ازاں متاثرہ شہری کو صبح 10 بجے اللہ والی چورنگی پر چھوڑا گیا۔ جب کہ اس واردات کا مقدمہ تھانہ سول لائن میں درج کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:مصطفیٰ عامر اغوا و قتل کیس: ملزم ارمغان کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع
تیسری واردات میں کسٹم اہلکار بن کر اورنگی ٹاؤن میں فیکٹری سے 6/7 لاکھ روپے بلیک میل کر کے وصول کیے گئے، گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔ جب کہ دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اغوا انٹیلیجنس ونگ بٹ کوائن سی ٹی ڈی کراچی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اغوا انٹیلیجنس ونگ بٹ کوائن سی ٹی ڈی کراچی
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ