ٹیرف غنڈہ گردی سے امریکہ کو نقصان ہوا، چینی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
بیجنگ :سی جی ٹی این کے ا یک عالمی سروے کے مطابق امریکہ کی ٹیرف غنڈہ گردی نے دنیا بھر میں امریکہ مخالف جذبات میں تیزی سے اضافہ کیا ہے. یہ سروے اس سال فروری اور اپریل میں کیا گیا جس میں دنیا بھر کے 38 ممالک کے 15,947 افراد نے جوابات دیے ۔74.2 فیصد عالمی جواب دہندگان کا خیال ہے کہ امریکی ٹیرف پالیسیاں ان کے اپنے ممالک کی معاشی ترقی کو روک دیں گی ۔اس رائے میں گذشتہ دو ماہ کے دوران 16.
ان ممالک کی منفی رائے میں بھی پچھلے سروے کے مقابلے میں 15.5 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا ۔ 69.4 فیصد افراد نے غیر ملکی ٹیک کمپنی کی سرمایہ کاری پر پابندیوں کی مخالفت کی جس میں 14.3 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور 61.5 فیصد کا خیال ہے کہ امریکہ کی “غیر ملکی درآمدات اور سپلائی چین پر انحصار کم کرنے” کی کوشش کا ان کے ممالک پر منفی اثر پڑے گا ۔اس رائے میں بھی 12.3 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے ۔امریکی جواب دہندگان میں سے 53.1 فیصد کا خیال ہے کہ “ریسیپروکل ٹیرف” پالیسی نے اسٹاک مارکیٹ کو کمزور کیا ہے ۔ 52 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ اس سے صنعتی خام مال کی لاگت میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔ 49.4 فیصد کا خیال ہے کہ اس سے زرعی برآمدات کو نقصان پہنچے گا ۔ 48.1 فیصد کا کہنا ہے کہ اس سے گھریلو بجٹ پر بوجھ بڑھے گا اور 43.7 فیصد کو خدشہ ہے کہ اس سے پنشن میں کمی واقع ہوسکتی ہے ۔
سروے میں شامل 38 ممالک میں 37 ممالک کے جواب دہندگان (97.4 فیصد) نے چین کے جوابی اقدامات کی حمایت ظاہر کی ۔ترقی پذیر ممالک میں یہ شرح کینیا ، مصر ، ترکیہ ، برازیل ، گھانا ، قازقستان ، پیرو ، نائیجیریا ، ملائیشیا ، متحدہ عرب امارات ، جنوبی افریقہ ، سعودی عرب اور انڈونیشیا کے جواب دہندگان کی حمایت کی شرح 70 فیصد سے زیادہ رہی جبکہ سربیا ، نمیبیا ، میکسیکو ، چلی ، پاکستان اور ارجنٹائن کے جواب دہندگان میں یہ شرح 60 فیصد رہی ۔ترقی یافتہ ممالک میں ، برطانیہ کے جواب دہندگان کی حمایت کی شرح 70.5 فیصد اور کینیڈا ، جرمنی اور فرانس میں یہ شرح بالترتیب 69.5 فیصد ، 66 فیصد اور 65.5 فیصد رہی۔ یہ سروے سی جی ٹی این نے انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل کمیونیکیشن ان دی نیو ایرا کے ذریعے چین کی رینمن یونیورسٹی کے تعاون سے کیا ۔
Post Views: 1
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے جواب دہندگان ہے کہ اس سے
پڑھیں:
ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اسکے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا اثر اب ہندوستان کی معیشت پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنائے رکھنے اور روپئے پر دباؤ کم کرنے کے لئے اپنے سونے کے ذخیرے کا کچھ حصہ فروخت کر دیا ہے۔ بلومبرگ اکنامکس کی ایک رپورٹ کے مطابق 22 مئی کو ختم ہوئے 2 ہفتے کے دوران آر بی آئی نے قریب 12 ارب (تقریباً 1.14 لاکھ کروڑ روپئے) قیمت کا سونا فروخت کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دوران مرکزی بینک نے قریب 7.5 ارب ڈالر (713.23 ارب روپئے) کے غیر ملکی کرنسی اثاثے حاصل کئے ہیں۔
بتا دیں کہ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل درآمد کنندہ ملک ہے۔ ایسے میں مغربی ایشیا میں بڑھتے تنازع کے سبب تیل کی قیمتوں میں تیزی آنے سے بھارت پر اضافی اقتصادی دباؤ پڑ رہا ہے۔ تیل درآمد پر اقتصادی خرچ ہونے سے زر مبادلہ کے ذخائر اور روپئے دونوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ "بلومبرگ اکنامکس" کے سینیئر ہندوستانی ماہر اقتصادیات ابھیشیک گپتا نے بتایا کہ دستیاب اعداد و شمار سے اشارہ ملتا ہے کہ آر بی آئی کے سونے کے ذخائر میں کمی آئی ہے جبکہ سونے پر درآمد ڈیوٹی بڑھنے کی وجہ سے اس کی قیمت میں اضافہ ہونا چاہیئے تھا۔ اسی بنیاد پر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے مرکزی بینک نے سونے کی فروخت کی ہو۔
اگر یہ اندازہ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ آر بی آئی نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مزید مضبوط اور آسانی سے استعمال کے قابل بنائے رکھنے کے لئے یہ قدم اٹھایا ہے۔ ایسا اس لئے بھی اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ ایران بحران اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق رکاوٹوں کے باعث تیل کی سپلائی اور عالمی تجارت پر دباؤ بڑھا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آر بی آئی مستقبل میں بھی موقع ملنے پر زر مبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی کوشش کر سکتا ہے، اگر ڈالر کمزور ہوتا ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے یا خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ آتی ہے تو مرکزی بینک مزید زر مبادلہ کے ذخائر حاصل کر سکتا ہے۔
مارچ 2025ء کے آخر تک آر بی آئی کے پاس 880.52 میٹرک ٹن سونا تھا۔ اس میں سے تقریباً 77 فیصد سونا ہندوستان میں ہی رکھا گیا تھا جبکہ 6 ماہ پہلے یہ اندازہ 66 فیصد تھا۔ آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اس کے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ سالوں میں آر بی آئی نے سونے کے ذخائر کا بڑا حصہ ہندوستان واپس منگایا ہے۔ اس کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی مانی جاتی ہے کہ روس-یوکرین جنگ کے بعد مغربی ممالک کے ذریعہ روس کے غیر ملکی اثاثے منجمد کئے جانے سے کئی ممالک کے مرکزی بینک غیر ممالک میں رکھے ذخیرے کے حوالے سے زیادہ الرٹ ہوگئے ہیں۔