امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹامی بروس نے اپنی بریفنگ میں کہا کہ نے بھارت اور پاکستان دونوں سے رابطہ کیا ہے اور ان پر زور دیا ہے کہ پہلگام دہشتگردی کے واقعہ کے بعد کشیدگی نہ بڑھے۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ سیکریٹری پاکستان اور بھارت میں اپنے ہم منصبوں کو آج یا کل بلانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں امریکا دونوں ممالک کے ساتھ متعدد سطحوں پر مصروف عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ دوسرے ممالک کے وزرائے خارجہ کو بھی اس معاملے پر بھارت اور پاکستان دونوں تک پہنچنے کی ترغیب دے رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ دونوں ممالک بحران کا ذمہ دارانہ حل تلاش کریں گے۔

بریفنگ کے دوران انہوں نے ایک بھارتی رپورٹر کے اس سوال کا جواب نہیں دیا جس میں ان سے خواجہ آصف کے تبصرے پر تبصرہ کرنے کو کہا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

بھارت کا 5 منٹ بعد پاکستان پر حملے کا الزام لگانا انتہائی نامناسب ہے، سابق امریکی نائب وزیر خارجہ

پاک بھارت کشیدگی کے حل کے بارے میں امریکی سابق سفارت کار کا کہنا تھا کہ ہم نے اس طرح کے فلمیں پہلے بھی دیکھیں ہیں، وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری اور دونوں ممالک کے عوام اپنی اپنی لیڈرشپ سے کہیں کہ بس بہت ہوچکا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ میں نجی ٹی وی کے میزبان حامد میر سے گفتگو کے دوران رابن رافیل نے وزیراعظم شہباز شریف کی پہلگام حملے کی تحقیقات غیر جانبدار ماہرین سے کرانے کی تجویز کی حمایت کردی۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلگام حملے پر پاکستان کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش مثبت پیشرفت ہے، عالمی برادری کو حالیہ پاک بھارت کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری کردار ادا کرنا چاہیے۔

امریکا کی سابق نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا رابن رافیل نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ امریکی حکومت شہباز شریف کی تجویز کو سپورٹ کرے گی جب کہ دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ ملکر بیٹھیں اور مسائل کا حل نکالیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ مضحکہ خیز ہے کہ واقعہ کے 5 منٹ کے بعد ہی ایک فریق کہے کہ انہیں پتا ہے کہ یہ حملہ کس نے کیا، تاہم اس حوالے سے درست حقائق جاننا بہت ضروری ہوتا ہے۔

میزبان نے سوال کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کا کیا حل ہے؟۔ جس پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اس طرح کی کشیدگی پہلی مرتبہ نہیں ہوئی، ہم نے اس طرح کے فلمیں پہلے بھی دیکھیں ہیں، وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری اور دونوں ممالک کے عوام اپنی اپنی لیڈرشپ سے کہیں کہ بس بہت ہوچکا ہے، اب وقت آگیا ہے کہ مسائل کا حل نکالا جائے۔

میزبان کی جانب سے پاک-امریکا تعلقات سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ امریکا میں نئی حکومت ابھی سنھبل رہی ہے، امریکا نے پاکستان اور جنوبی ایشیا میں پالیسی بنانے کے لیے ابھی لوگ تعینات نہیں کیے، صورتھال کو جانچنے میں وقت لگے گا۔ مزید کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان سے تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے پچھلی انتظامیہ کی کوششوں کو ہی استوار کرے گی اور پاکستان کے ساتھ تعاون کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

واضح رہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے مسلم اکثریتی علاقے پہلگام میں 22 اپریل کو 26 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد 23 اپریل کو سندھ طاس معاہدہ فوری طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بھارت نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو جواز بناتے ہوئے پاکستانی شہریوں کو 48 گھنٹے میں بھارت چھوڑنے کا حکم دیا تھا، جبکہ واہگہ بارڈرکی بندش اور اسلام باد میں بھارتی ہائی کمیشن میں تعینات اپنے ملٹری اتاشی کو وطن واپس بلانے کے علاوہ پاکستان میں تعینات سفارتی عملے کی تعداد میں بھی کمی کردی تھی۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت اور پاکستان کشیدگی نہ بڑھائیں، مسئلے کا حل نکالیں: امریکا
  • پاکستان اور بھارت ذمہ دارانہ حل نکالیں اور صورتحال مزید خراب نہ کریں، امریکا
  • پاکستان بھارت کشیدگی پر امریکا متحرک ہو گیا، پُرامن رہنے کا مشورہ
  • پاک-بھارت کشیدگی؛ سیکریٹری اسٹیٹ پاکستان اور بھارت سے بات کریں گے، اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ
  • پاک بھارت کشیدگی پر امریکا کا مؤقف، اہم مشورہ دے دیا
  • بھارت کا 5 منٹ بعد پاکستان پر حملے کا الزام لگانا انتہائی نامناسب ہے، سابق امریکی نائب وزیر خارجہ
  • پہلگام واقعہ: پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اور تناؤ کے درمیان امریکا کا اہم بیان سامنے آگیا
  • پہلگام واقعہ: پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اور تناؤ کے درمیان امریکا کا اہم بیان سامنے آگیا
  • پہلگام واقعہ: پاکستان اور انڈیا ذمہ دارانہ حل کی طرف بڑھیں، دونوں ممالک سے رابطے میں ہیں، امریکا