بحران کا ذمہ دارانہ حل تلاش کرنے کی توقع کیساتھ امریکا کا بھارت اور پاکستان پر کشیدگی نہ بڑھانے پر زور
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹامی بروس نے اپنی بریفنگ میں کہا کہ نے بھارت اور پاکستان دونوں سے رابطہ کیا ہے اور ان پر زور دیا ہے کہ پہلگام دہشتگردی کے واقعہ کے بعد کشیدگی نہ بڑھے۔
انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ سیکریٹری پاکستان اور بھارت میں اپنے ہم منصبوں کو آج یا کل بلانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں امریکا دونوں ممالک کے ساتھ متعدد سطحوں پر مصروف عمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ دوسرے ممالک کے وزرائے خارجہ کو بھی اس معاملے پر بھارت اور پاکستان دونوں تک پہنچنے کی ترغیب دے رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ دونوں ممالک بحران کا ذمہ دارانہ حل تلاش کریں گے۔
بریفنگ کے دوران انہوں نے ایک بھارتی رپورٹر کے اس سوال کا جواب نہیں دیا جس میں ان سے خواجہ آصف کے تبصرے پر تبصرہ کرنے کو کہا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔