Express News:
2026-07-24@01:53:47 GMT

میٹا نے ’میٹا اے آئی‘ ایپ متعارف کرا دی

اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT

ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے اپنی جدید مصنوعی ذہانت تک آسان رسائی کے لیے ’میٹا اے آئی‘ ایپ کا پہلا ورژن متعارف کرا دیا ہے، جو Llama 4 ماڈل پر مبنی ہے۔

یہ ایپ صارفین کو ذاتی نوعیت کا اے آئی تجربہ فراہم کرتی ہے اور واٹس ایپ، فیس بک، انسٹاگرام اور میسنجر کے علاوہ اب علیحدہ ایپ کے طور پر بھی دستیاب ہے۔

ایپ میں ’ڈسکور فیڈ‘  شامل ہے جہاں صارفین دیکھ سکتے ہیں کہ دنیا بھر میں لوگ اے آئی کو کیسے استعمال کر رہے ہیں، جبکہ وہ خود بھی پرامپٹس شیئر کر سکتے ہیں۔

ایپ meta.

ai ویب سائٹ سے منسلک ہے، جس سے صارف کہیں سے بھی اپنی سرگرمی جاری رکھ سکتے ہیں۔

ایپ روزمرہ سوالات کے جوابات، تحقیق، ویب سرچ، اور دوستوں و خاندان سے رابطے میں مدد دیتی ہے۔

ویب ورژن کو ڈیسک ٹاپ کے لیے بہتر بنایا گیا ہے، جس میں امیج جنریشن کی جدید خصوصیات، جیسے اسٹائل، روشنی اور رنگوں کے نئے اختیارات شامل ہیں۔میٹا کا یہ اقدام مصنوعی ذہانت کے مزید ذاتی، مربوط اور موثر استعمال کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اے آئی

پڑھیں:

دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس

دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔

دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر

نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔

ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟

ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔

کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟

حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔

دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس