حکومت کا بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کا عندیہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کا عندیہ دیا ہے جبکہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی اداروں نے ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر عملدرآمد جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس سید نوید قمر کی زیر صدارت ہوا، جس میں چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیاں نے کمیٹی کو بتایا کہ آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے آئندہ مالی سال کا بجٹ اہداف کے لحاظ سے مشکل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کسی شعبے کیلئے ٹیکس میں کمی کرنا آسان نہیں ہوگا تاہم تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کی تجاویز زیر غور ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ویڈیو لنک کے ذریعے بریفنگ میں بتایا کہ وزارت خزانہ نئے بجٹ 2025-26 سمیت طویل مدتی ٹیکس پالیسی کی تیاری پر کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایف بی آر صرف ٹیکس وصولیوں پر فوکس کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ دورہ امریکہ میں 70 سے زیادہ میٹنگز کیں۔
عالمی مالیاتی اداروں، دوطرفہ شراکت داروں اور ریٹنگ ایجنسیز نے پاکستان کی معاشی کارکردگی میں بہتری کا اعتراف کیا ہے۔ ٹیکس، توانائی، سرکاری اداروں کی نجکاری سمیت مختلف شعبوں میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات جاری رکھنے پر بھی زور دیا ہے۔
اجلاس میں رکن آغا رفیق اللہ نے وزارت اورسیز پاکستانیز سمیت مختلف سرکاری ادارں میں ملازمین کو کم از کم ماہانہ 37 ہزار روپے اجرت نہ دینے کا انکشاف کیا کمیٹی نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت خزانہ سے 30 روز میں تفصیلی رپورٹ مانگ لی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔