UrduPoint:
2026-07-24@09:47:47 GMT

کاروباری اداروں میں تبدیل ہو چکی پاکستانی یونیورسٹیاں

اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT

کاروباری اداروں میں تبدیل ہو چکی پاکستانی یونیورسٹیاں

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 30 اپریل 2025ء) میری امی لاہور کی ایک مشہور یونیورسٹی کے بارے میں کہتی تھیں کہ اس کے برآمدوں سے یونہی گزرنے والے بھی عالم فاضل ہو جاتے تھے۔ ان کی بے حد خواہش تھی کہ ان کے بچوں میں سے کوئی ایک اس جامعہ سے ضرور تعلیم حاصل کرے۔ برسوں بعد ان کی خواہش پوری ہوئی تو ہمیں پتہ چلا کہ وہ یونیورسٹی اب اپنے لیکچر ہالز میں بیٹھنے والے طلبہ تک کو بھی بہتر انسان بنانے کی صلاحیت کھو چکی ہے۔

شاید کبھی اس یونیورسٹی کا ایک شاندار ماضی رہا ہو۔ موجودہ دور میں وہ اور اس جیسی کئی دیگر جامعات کاروباری ادارے بن چکی ہیں۔ وہ طلبہ کی فکری تربیت کرنے کے بجائے انہیں صارف سمجھتے ہوئے بہترین 'سروس‘ فراہم کرنے پر زور دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں ان کا علمی وقار کہیں کھو گیا ہے اور بس مارکیٹ ویلیو باقی رہ گئی ہے۔

(جاری ہے)

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم نوجوانوں کی ایک اہم ضرورت ہے۔

اچھی جامعہ سے اچھی ڈگری کے بغیر نہ تو اچھی نوکری ملتی ہے اور نہ ہی کوئی اچھا رشتہ۔ طلبا و طالبات کی اس ضرورت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یونیورسٹیاں اپنے شعبہ جات کے لیے بین الاقوامی سطح پر بہتر درجہ بندی حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ جس شعبے کی جتنی بہتر رینکنگ ہوگی، اتنے ہی زیادہ طلبہ اس میں داخلے کے خواہش مند ہوں گے، اور وہ جامعہ اتنی ہی زیادہ فیس وصول کر سکے گی۔

پاکستانی یونیورسٹیاں اس حوالے سے اپنی درجہ بندی کو بہتر بنانے کے لیے جو کچھ کر سکتی ہیں، کرتی ہیں، مثلاﹰ بہترین فیکلٹی لانا، انہیں زیادہ سے زیادہ تحقیق پر آمادہ کرنا، بین الاقوامی طلبہ اور اساتذہ کو مدعو کرنا، اور اپنی مارکیٹ ویلیو کو مزید بہتر بنانا۔ اس قدر دباؤ میں فیکلٹی اور طلبہ اپنی توانائیاں صرف انہی سرگرمیوں پر مرکوز رکھتے ہیں، جن سے متعلقہ یونیورسٹی میں ان کی جگہ برقرار رہ سکے۔

ایسے میں فکری تربیت کہیں پس منظر میں چلی جاتی ہے۔

طلبہ ہر سمسٹر میں کم از کم دو بار اساتذہ کے بارے میں اپنی فیڈبیک دیتے ہیں۔ اگر یہ فیڈ بیک مسلسل بری رہے، تو اساتذہ کو نوٹس جاری کیا جا سکتا ہے اور ان کی نوکریاں بھی ختم ہو سکتی ہیں، چاہے وہ علمی اور تحقیقی لحاظ سے کتنا ہی قابل کیوں نہ ہوں۔ حالانکہ کئی تحقیقی مطالعات یہ ظاہر کر چکے ہیں کہ طلبہ کی فیڈبیک اکثر متعصبانہ اور ذاتی پسند ناپسند پر مبنی ہوتی ہے اور یہ تعلیمی معیار کی پیمائش کا کوئی درست پیمانہ نہیں۔

لیکن پاکستانی جامعات اسی فیڈ بیک کی مدد سے اساتذہ کی کارکردگی کو پرکھتی ہیں۔

اس کے علاوہ بھی شعبہ جات کے سربراہان طلبہ سے وقتاً فوقتاً اساتذہ کے بارے میں فیڈبیک لیتے رہتے ہیں۔ پھر اساتذہ کو کبھی صاف تو کبھی ڈھکے چھپے الفاظ میں طلبہ کی شکایات دور کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ یہ معاملہ صرف پاکستانی جامعات تک ہی محدود نہیں بلکہ دنیا بھر کی بہت سی یونیورسٹیوں میں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔

کسی کورس میں زیادہ طلبہ فیل ہو جائیں، تو ان کے بجائے استاد سے رپورٹ لی جاتی ہے۔ بعض جگہوں پر تو اساتذہ کو پہلے ہی سے کہہ دیا جاتا ہے کہ وہ زیادہ طلبہ کو فیل نہ کریں۔

اساتذہ کو اپنی نوکری بچانے کے لیے مجبوراً طلبہ کی باتیں سننا پڑتی ہیں۔ وہ نہ انہیں ڈانٹ سکتے ہیں، نہ ان سے کام لے سکتے ہیں اور نہ ہی انہیں زیادہ پڑھنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔

طلبہ فوراً ان کی شکایت لے کر شعبہ جاتی سربراہان کے پاس پہنچ جاتے ہیں اور پھر اساتذہ کی شامت آ جاتی ہے۔

جامعات اپنی پالیسیاں بھی طلبہ کو زیادہ سے زیادہ آرام پہنچانے کے لیے بناتی ہیں۔ آج کل کے طالب علم ماضی کے طلبہ کی طرح کلاس روم میں دیر سے داخل ہونے پر ڈرتے نہیں، بلکہ پورے اعتماد سے استاد کو سلام کرتے ہوئے کمرے میں داخل ہوتے ہیں۔

اگر استاد انہیں وہیں روک کر باز پرس کرے، تو ایسے طلبہ لیکچر کے بعد ڈین کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔

کوئی طالب علم کسی بھی وجہ سے امتحان نہ دے سکے، تو اسے کچھ فیس کے عوض 'ری ٹیک‘ امتحان دینے کی اجازت مل جاتی ہے۔ اساتذہ کو دوبارہ سے پیپر بنانے اور جوابی کاپی چیک کرنے کی ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے۔ کوئی طالب علم کوئی تحقیقی مقالہ مکمل نہ کر سکتا ہو، تو اسے دو سے تین کورسز پڑھنے کی اجازت مل جاتی ہے۔

وہ ان کورسز کی فیس دے کر اپنی ڈگری کے اجرا کے تقاضے پورا کر لیتے ہیں۔ یوں بغیر پریشان ہوئے، ان 'گاہکوں‘ کو بھاری بھر کم فیس کے عوض ایک نامور ادارے کی ڈگری مل جاتی ہے۔

جو طلبہ مہنگے ڈگری پروگراموں میں داخلہ لینے سے محروم رہ جائیں، ان کے لیے کم لاگت والے قلیل المدتی کورسز متعارف کرائے جاتے ہیں۔ ان کورسز سے ان طلبہ کو جامعہ کا نام مل جاتا ہے اور جامعہ کو اضافی آمدن حاصل ہو جاتی ہے۔

تعلیمی ادارے جب طلبہ کو محض 'کسٹمر‘ سمجھنے لگیں، تو نہ تعلیم باقی رہتی ہے، نہ تربیت اور نہ ہی کوئی فکری میراث جنم لیتی ہے۔ ایسے ماحول میں استاد کا کردار رہنما سے کم ہوتے ہوتے سہولت کار تک محدود ہو جاتا ہے۔ انہیں اپنے' گاہک‘ کو خوش رکھنے کی کوشش میں اپنی علمی خودی، تحقیقی آزادی اور تدریسی دیانت تک پرسمجھوتے کرنا پڑ جاتے ہیں۔

افسوس کہ جن جامعات نے کبھی علم و شعور کی شمعیں روشن کی تھیں، وہ آج فیسوں، ریٹنگز اور طلبہ کی 'اطمینان بخش رائے‘ کے گرد گھومتی کاروباری مشینیں بن چکی ہیں۔ یہ نظام بظاہر سب کو فائدہ دیتا ہے۔ یعنی جامعہ کے لیے آمدنی، طلبہ کے لیے ڈگریاں، اور پالیسی سازوں کے لیے اعداد و شمار۔ لیکن درحقیقت یہ سب کچھ ہم سب سے ایک ایسا تعلیمی مستقبل چھینتا جا رہا ہے، جو تحقیق، تنقید اور فکری آزادی اور غیر جانب داری پر قائم ہونا چاہیے تھا۔

نوٹ: ڈی ڈبلیو اردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اساتذہ کو جاتے ہیں جاتا ہے طلبہ کو طلبہ کی جاتی ہے ہے اور کے لیے

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟