وزیراعظم کی امریکی وزیر خارجہ سے گفتگو، پہلگام واقعے سے پاکستان کو جوڑنے کی بھارتی کوششیں مسترد
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
وزیر اعظم شہباز شریف سے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں وزیر اعظم نے پہلگام واقعے سے پاکستان کو جوڑنے کی بھارتی کوششوں کو دو ٹوک الفاظ میں مسترد کیا اور حقائق سامنے لانے کے لیے شفاف، قابل اعتماد اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے مطالبے کا اعادہ کیا۔
وزیر اعظم نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالے کہ وہ ایسے اشتعال انگیز بیانات سے گریز کرے اور ذمہ داری سے کام لے، شہباز شریف نے مارکو روبیو کو جنوبی ایشیاء میں حالیہ پیش رفت پر نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔
شہباز شریف نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر میں مذمت کرتے ہوئے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے اہم کردار کا ذکر کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان نے 90,000 سے زائد جانوں کی قربانی دی، پاکستان کو 152 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت میں ہونے والا کوئی بھی واقعہ بھارت کا اپنا ڈرامہ ہوتا ہے، بھارت پاکستان سمیت دیگر ممالک میں دہشت گردی کا اسپانسر ہے،
وزیراعظم نے بھارت کے بڑھتے اشتعال انگیز رویے کو انتہائی مایوس کن اور تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی اشتعال انگیزی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جاری کوششوں سے توجہ ہٹانے کا کام کر رہی ہے۔
شہباز شریف نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالے کہ اشتعال انگیز بیانات سے گریز کرے، انتہائی افسوسناک ہے کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کا انتخاب کیا، پانی پاکستان کے 240 ملین لوگوں کے لیے لائف لائن ہے، سندھ طاس معاہدے میں یکطرفہ طور پر دستبردار ہونے کی کوئی شق نہیں، جموں و کشمیر تنازع کا پرامن حل ہی خطے میں پائیدار امن یقینی بنانے کا راستہ ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور امریکا نے 70 سالوں میں مل کر کام کیا ہے، پاک امریکا انسداد دہشت گردی، معاشی تعاون، معدنیات کا شعبہ میں بھی تعاون کر سکتے ہیں، گزشتہ ایک سال کے دوران بڑی اقتصادی اصلاحات کی ہیں، اصلاحات کے نتیجے میں پاکستان اب اقتصادی بحالی کی راہ پر گامزن ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جنوبی ایشیاء میں امن کے لیے دونوں فریقوں کو مل کر کام جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شہباز شریف کے خلاف کہا کہ
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔