بھارتی دہشت گردی بے نقاب پر بوکھلاہٹ کی شکار مودی سرکار اپنے ہی شہریوں کو گرفتار کرنے لگی
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں بھارت کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد پیش کرنے پر مودی سرکار بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی۔
مودی سرکار جو پہلگام فالس فلیگ کی سازش میں بری طرح ناکام ہونے پر پہلے ہی پوری دنیا میں خفگی اُٹھارہی تھی، آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں بھارتی ایجنٹ کی گرفتاری اور اس کی دہشت گردی کی کارروائی کے لیے بھارتی فوج کے افسران کی کال ریکارڈنگ بھی پیش کی تھی۔
پاکستان میں سرحدی دہشتگردی کا نیٹ ورک پوری دنیا میں بے نقاب ہوجانے کے ان ناقابل تردید شواہد سے مودی حکومت کے اوسان خطا ہوگئے اور اپنی ناکامیوں کا ملبہ ڈالنے کے لیے وہ اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق بھارتی فوج نے بھٹنڈہ چھاؤنی میں 8 سال سے کام کرنے والے موچی سنیل کمارگرفتار کو قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق بھارتی فوج نے سنیل کمار کو حساس معلومات شیئر کرنے اور پاکستانی ہینڈلرز سے رابطہ برقرار رکھنے کے شبہ میں گرفتار کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔
گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔
سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔
فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔
شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔
دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔
اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔
زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔
ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔
اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔