حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 ،2 روپے کی کمی کا اعلان کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق وزارت خزانہ کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے متعلق نوٹی فکیشن جاری کر دیا گیا۔
وزارت خزانہ سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے فی لیٹر کی کمی کی گئی ہے جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی 2 روپے فی لیٹر سستا کردیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 252 روپے 63 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 256 روپے 64 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔
خیال رہے کہ عالمی نرخوں میں کمی کی وجہ سے 30 اپریل کو ختم ہونے والے اگلے 15 دنوں کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 10 روپے فی لیٹر کمی کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آج کم ہونے جارہی ہیں لیکن ہم یہ فائدہ عوام کو منتقل نہیں کریں گے بلکہ اس بچت
سے بلوچستان میں موٹر وے طرز کی ہائی وے بنائے جائیں گے۔
تاہم، 15 اپریل کو صدر مملکت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی آرڈیننس جاری کیا گیا جس کے بعد وفاقی حکومت نے شہریوں پر ملکی تاریخ کا سب سے زیادہ
پیٹرولیم لیوی کا بوجھ منتقل کر دیا تھا۔
صدارتی آرٹیننس سے پہلے حکومت پیٹرول اور ڈیزل پر 70 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی وصول کر رہی تھی، تاہم نوٹی فکیشن کے بعد پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی
78 روپے 2 پیسے فی لیٹر کر دی گئی اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی 77 روپے ایک پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی۔
پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی میں 8 روپے 2 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا، ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی 7 روپے ایک پیسے فی لیٹر بڑھادی گئی۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 70 روپے سے زیادہ لیوی لگانےکے لیے قانون تبدیل کیا تھا، اس سے پہلے وفاقی حکومت کے پاس پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 70 روپے تک فی لیٹر لیوی لگانے کا اختیار تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پیٹرولیم مصنوعات کی اور ہائی اسپیڈ ڈیزل ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پر پیٹرولیم لیوی کی قیمتوں میں روپے فی لیٹر پیسے فی لیٹر پیٹرول اور حکومت نے کی قیمت کمی کا
پڑھیں:
سینماز کی جلد بندش پر تشویش، فہد مصطفیٰ نے پنجاب حکومت سے بڑا مطالبہ کردیا
اداکار فہد مصطفیٰ نے پنجاب حکومت سے سینما گھروں کے اوقاتِ کار میں نرمی کی اپیل کی ہے تاکہ عوام کو فلمیں دیکھنے کے لیے مناسب وقت مل سکے۔
فہد مصطفیٰ نے اس حوالے سے وزیر برائے اطلاعات و ثقافت مریم اورنگزیب کو ایک کھلا خط لکھا ہے۔ اپنے خط میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ کفایت شعاری اقدامات کے تحت شاپنگ مالز اور ان کے اندر قائم سینما گھروں کو شام 8 بجے بند کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جس کے باعث سنیما انڈسٹری متاثر ہو رہی ہے۔
View this post on Instagram
A post shared by Fahad Mustafa (@mustafafahad26)
انہوں نے کہا کہ چونکہ زیادہ تر شائقین دن کے اوقات میں مصروف ہوتے ہیں اس لیے وہ صرف شام اور رات کے اوقات میں ہی فلمیں دیکھنے کے لیے آ سکتے ہیں۔
اداکار کے مطابق سینما گھروں کے اوقات محدود ہونے سے حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلموں کی باکس آفس کارکردگی متاثر ہو رہی ہے جو اس اہم عرصے میں ناظرین تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’آپ بھی زومبی بن سکتے ہیں‘، رمضان چھیپا ایک نئے انداز کیساتھ میدان میں آگئے
فہد مصطفیٰ نے کہا کہ اگر سینما گھروں کے اوقات میں معمولی توسیع کر دی جائے تو اس سے نہ صرف ٹکٹوں کی فروخت میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے مواقع بھی بہتر ہوں گے اور تفریحی شعبے کو بھی سہارا ملے گا۔
انہوں نے پنجاب حکومت کی جانب سے فلم انڈسٹری کے لیے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ لاہور میں فلم سٹی کے قیام جیسے منصوبے قابلِ تحسین ہیں۔ تاہم انہوں نے درخواست کی کہ حکومت ایک ’معمولی نرمی‘ کے تحت سینما اوقات میں توسیع پر غور کرے جو فلم سازوں، نمائش کنندگان اور شائقین تینوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔
واضح رہے کہ فہد مصطفیٰ کی فلم زومبیڈ عیدالاضحیٰ کے موقع پر ریلیز ہوئی تھی اور ملک بھر کے سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستانی فلمیں پنجاب حکومت پنجاب حکومت کو خط زومبیڈ فہد مصطفی مریم اورنگزیب