ایل پی جی کے بعد پیٹرول اور ڈیزل بھی سستا ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایل پی جی سستی ہوگئی، نوٹیفیکیشن جاری
وزارت خزانہ کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق پیٹرول کی قمیت میں 2 روپے فی لیٹر تک کمی کردی گئی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی اتنی ہی کمی کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت اب 252 روپے 63 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 256 روپے 64 پیسے فی لیٹر ہوگی۔
واضح رہے کہ بدھ کو ایل پی جی کی قیمت میں بھی کمی کی گئی ہے۔
اوگرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی 3 روپے 20 پیسے فی کلو سستی ہوئی ہے۔ ایل پی جی کی نئی فی کلو قیمت 245 روپے16 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ اس کا 11.
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول سستا پیٹرولیم مصنوعات قیمتیں ڈیزل سستا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پیٹرول سستا پیٹرولیم مصنوعات قیمتیں ڈیزل سستا ایل پی جی کی قیمت گئی ہے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔