نجی ٹی وی کے مطابق واٹکنز نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ثبوت کی عدم موجودگی کے باوجود بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا اور پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کر دیے۔ اسلام ٹائمز۔ سابق امریکی صدر اوباما کی پالیسی مشیر اور عالمی امور کے ماہر لیری اے واٹکنز نے پہلگام واقعہ کے بعد بھارتی حکومت کی پالیسیوں اور رویے پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ واٹکنز نے نجی ٹی وی کو دئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے جنگی پالیسیوں کی راہ اختیار کر لی ہے اور اس کے وزیراعظم نریندر مودی نے واقعے کے ثبوت فراہم کرنے کا وعدہ تو کیا، مگر عالمی برادری کو کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے۔

انہوں نے کہا کہ مودی حکومت اس افسوسناک واقعے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ، روس اور دیگر عالمی طاقتیں اس واقعے کی تحقیقات کے نتائج کا انتظار کر رہی ہیں، تاہم بھارت کی جانب سے آزادانہ تحقیق کی اجازت نہ دینا عالمی برادری کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ واٹکنز نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ثبوت کی عدم موجودگی کے باوجود بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا اور پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کر دیے۔

انہوں نے امریکی میڈیا کی خاموشی پر بھی افسوس کا اظہار کیا، اور کہا کہ امریکی مرکزی دھارے کے میڈیا آؤٹ لیٹس نے پہلگام حملے کی کوریج تک نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ اس وقت جنوبی ایشیائی خطے پر توجہ نہیں دے رہی، اور اگر کشمیر جیسے حساس مسئلے پر کشمیری عوام کی آواز کو دبایا جاتا رہا تو کوئی دیرپا اور منصفانہ حل ممکن نہیں ہو سکے گا۔ واٹکنز کے اس انٹرویو نے پہلگام واقعے سے جڑے کئی اہم اور نظر انداز شدہ پہلوؤں کو اجاگر کر دیا ہے، اور بھارت کی پالیسیوں پر عالمی سطح پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی