کوئٹہ سے کراچی آنیوالی بس سے بھاری مقدار میں منشیات اور اسمگل شدہ اشیاء برآمد
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
کراچی:
پاکستان کسٹمز انفورسمنٹ نے انسداد اسمگلنگ مہم کے تحت کارروائی کرتے ہوئے کوئٹہ سے کراچی آنے والی مسافر بس نمبر LES-522 سے بھاری مقدار میں منشیات اور اسمگل شدہ اشیاء برآمد کر لیں۔
اسسٹنٹ کلکٹر کسٹمز بسمہ جتوئی کے مطابق محکمہ کسٹمز کو خفیہ ذرائع سے اطلاع موصول ہوئی تھی کہ مذکورہ بس کے ذریعے غیر قانونی سامان کراچی منتقل کیا جا رہا ہے۔ اطلاع کی بنیاد پر موچکو چیک پوسٹ پر بس کو روکا گیا اور مکمل تلاشی لی گئی۔
تلاشی کے دوران ڈرائیور سیٹ کے خفیہ خانے سے 58 کلوگرام چرس برآمد ہوئی جبکہ واٹر کولر کے پیندے میں چھپائے گئے 130 اسمگل شدہ موبائل فونز بھی برآمد کیے گئے۔ مزید چھان بین پر بس کے اضافی وھیل میں 9600 غیر ملکی سگریٹس کے پیکٹس اور ٹول بکس سے 8200 ساشے بھارتی اسمگل شدہ گٹکا برآمد کیا گیا۔
بسمہ جتوئی کے مطابق برآمد شدہ منشیات، اسمگل شدہ اشیاء اور بس کی مجموعی مالیت 1 کروڑ 76 لاکھ روپے سے زائد ہے۔ کسٹمز حکام نے بس میں سوار اس کے مالک اور ڈرائیور کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا۔
گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر کے ان کا ریمانڈ لے لیا ہے جبکہ برآمد شدہ اشیاء ضبط کر لی گئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسمگل شدہ شدہ اشیاء
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔