سونا مزید سستا؛ عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت آج بھی کم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
کراچی:
عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت آج بھی کم ہونے کی وجہ سے سونا مزید سستا ہوگیا۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 23ڈالر کی کمی سے نئی عالمی قیمت 3ہزار 240 ڈالر کی سطح پر آگئی ۔
اسی طرح پاکستان میں 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت بھی 2ہزار 300روپے کی کمی کے بعد 3لاکھ 42ہزار 200روپے کی سطح پر آگئی جب کہ فی 10 گرام سونے کی قیمت ایک ہزار 972روپے گھٹ کر 2لاکھ 93ہزار روپے 381روپے کی سطح پر آگئی۔
اسی طرح فی تولہ چاندی کی قیمت 45روپے کی کمی سے 3382روپے اور 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 39روپے کی کمی سے 2899روپے کی سطح پر آگئی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز مقامی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت ایک ہزار 300 روپے کی کی کمی سے 3لاکھ 44ہزار 500روپے کی سطح پر آگئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی سطح پر آگئی سونے کی قیمت کی کمی سے
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔