پاک بھارت کشیدگی کے باعث خام مال کی امپورٹ پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی 2025ء ) پاک بھارت کشیدگی کے باعث خام مال کی امپورٹ پر پابندی کی وجہ سے ملک میں زندگی بچانے والی ادویات کی شدید قلت پیدا ہونے کی اطلاعات پیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان اور بھارت کی جاری کشیدگی کے باعث دو طرفہ تجارت معطل ہونے کے باعث اس کے منفی اثرات ملکی فارماسیوٹیکل سیکٹر پر نمایاں ہونے لگے ہیں کیوں کہ ملک میں دوا سازی کے لیے تقریباً 30 فیصد خام مال بھارت سے درآمد کیا جاتا ہے جس کی فراہمی رکنے سے ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے، خاص طور پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صورتحال تشویشناک ہے۔
بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد میں عام اور ضروری ادویات ناپید ہوچکی ہیں، وفاقی دارالحکومت کی میڈیکل مارکیٹوں میں بخار، درد، پیٹ کی خرابی اور سانس میں دشواری کی عام استعمال ہونے والی ادویات شدید قلت کا شکار ہیں، کچھ ادویات مارکیٹ سے تقریباً غائب ہی ہو چکی ہیں جن میں بروفن، فلیجل، پیڈیٹرال او آر ایس، وینٹولین انہیلر نمایاں ہیں، میٹوڈائن، گریوی نیٹ، وینٹیک، کینالوس، ڈیانس، ویبرا مائی سین کیپسول، دماغی امراض کی ادویات کیمیڈائن بھی مارکیٹ میں قلت کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے شہریوں کو روزمرہ کی عام ادویات بھی دستیاب نہیں، اس صورتحال میں فارمیسی مالکان نے حکومتی اداروں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کردیا۔(جاری ہے)
دوسری طرف بھارت نے پاکستانی جہازوں کے بھارتی سمندری حدود سے گزرنے پر بھی پابندی عائد کردی ہے، بھارت کی وزارت تجارت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن مین کہا گیا ہے کہ فارن ٹریڈ پالیسی (FTP) میں ایک نیا ضابطہ شامل کیا گیا ہے جس میں پاکستان سے آنے والے یا پاکستان سے برآمد ہونے والے تمام سامان کی درآمدات یا ٹرانزٹ پر فوری طور پر پابندی عائد کی گئی ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے باعث
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔