خیبر پختونخوا سے مزید 1,296 افغان مہاجرین وطن واپس روانہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
صوبائی محکمہ داخلہ نے مزید بتایا کہ ستمبر 2023 سے لے کر اب تک مجموعی طور پر 5 لاکھ 30 ہزار 286 افغان باشندوں کو خیبر پختونخوا سے ان کے وطن واپس بھیجا جا چکا ہے جن میں سے 19,228 افراد کو طورخم کے ذریعے بھیجا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی وطن واپسی کا عمل جاری ہے۔ صوبائی محکمہ داخلہ کے مطابق گزشتہ روز 1,296 غیر قانونی افغان مہاجرین کو افغانستان واپس بھیجا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر افراد کو طورخم بارڈر کے ذریعے جبکہ 33 افغان باشندوں کو انگور اڈہ بارڈر کے راستے افغانستان روانہ کیا گیا۔ حکام کے مطابق اب تک 32,503 افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کو وطن واپس بھیجا جا چکا ہے۔ صوبائی محکمہ داخلہ نے مزید بتایا کہ ستمبر 2023 سے لے کر اب تک مجموعی طور پر 5 لاکھ 30 ہزار 286 افغان باشندوں کو خیبر پختونخوا سے ان کے وطن واپس بھیجا جا چکا ہے جن میں سے 19,228 افراد کو طورخم کے ذریعے بھیجا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا سے افغان باشندوں واپس بھیجا وطن واپس
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔