کشمیری جذبے سے سرشار ہیں، جنگ مسلط کی گئی تو قوم فوج کے شانہ بشانہ ہوگی، امیرمقام
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
SHANGLA:
وفاقی وزیر برائے امور کشمیر گلگت بلتستان اور مسلم لیگ(ن) خیبرپختونخوا کے صدر امیرمقام نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے آبا و اجداد نےکشمیر کی آزادی میں اپنا کردار ادا کیا، کشمیری جذبے سے سرشار ہیں اور اگر بھارت نے جنگ مسلط کی تو پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ ہوگی۔
وفاقی وزیر برائے امور کشمیر گلگت بلتستان، سیفران اور صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا امیر مقام نے شانگلہ میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن، مسلم لیگ لائرز فورم سمیت دیگر تنظیموں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شانگلہ کے عوام نے پورے ملک کے لیے قربانیاں دے کر دہشت گردی کا مقابلہ کیا اور تاریخ رقم کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شانگلہ کے عوام نے پورے ملک کے لیے قربانیاں دے کر دہشت گردی کا مقابلہ کیا اور تاریخ رقم کی، اب جب بھی ملکی سالمیت کی بات آئے گی تو پورا خیبر پختونخواہ اور شانگلہ کے عوام حاضر ہوں گے۔
امیر مقام نے بھارت کی پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات کی شدید مذمت کی اور کہا کہ بغیر کسی ثبوت کے بھارت نے الزام تراشی کا سلسلہ شروع کیا ہے جو قابلِ افسوس ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہماری خواہش امن ہے، بھارت نے اگر جنگ مسلط کی تو پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ بھارت کو شکست سے دوچار کرے گی۔
حالیہ کشیدگی کے دوران آزاد جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر گزارے گئے تین سے چار دنوں کا تجربے سے آگاہ کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ کشمیر کے لوگ جذبے سے سرشار ہیں اور پاکستان اور پاک فوج سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، یہ جذبہ ناقابل شکست ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں ان کے جذبے اور پاکستان کے ساتھ محبت کو سلیوٹ پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے اور بھارت کے درمیان یہی فرق ہے، ہمارے لوگ پاک فوج سے محبت کرتے ہیں اور اگر جنگ ہوئی تو ہر شہری پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا۔
امیرمقام نے کہا کہ پوری قوم متحد ہے، جیسے ہمارے آبا و اجداد نےکشمیر کی آزادی میں اپنا کردار ادا کیا تھا، ہمارے لیے خوش قسمتی کی بات ہے کہ ہم ملک کی حفاظت کے لیے شہید ہوں یا غازی بنیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان فوج کے شانہ بشانہ پاک فوج کہا کہ
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔