کراچی؛ سابق شوہر کے بھائی کی فائرنگ سے خاتون جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
کراچی:
سرجانی ٹاؤن خدا کی بستی فیز ون میں گھریلو جھگڑے کے دوران فائرنگ سے خاتون جاں بحق ہوگئی۔
پولیس کے مطابق واقعہ ٹی سی ایف اسکول کے قریب گھر میں پیش آیا جہاں 35 سالہ سندس زوجہ عمران عرف دانیال گولی لگنے سے جاں بحق ہو گئی۔ لاش کو چھیپا ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔
ترجمان کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے، جس کی تحقیقات جاری ہیں۔ واقعے کے بعد مقتولہ کی بہن سحر نے ویڈیو بیان جاری کیا جس میں بتایا گیا کہ اس نے اپنے شوہر شارق سے خلع لیا ہوا تھا۔
سحر کے مطابق اس کا سابق شوہر اپنے بھائی علی، عارف اور بہن کے ساتھ والدہ کے گھر آیا اور زبردستی اس کی چھوٹی بیٹی کو ساتھ لے جانے کی کوشش کی۔ اس دوران شارق کے بھائی عارف نے فائرنگ کر دی جس کی زد میں آکر سندس جاں بحق ہوگئی۔
فائرنگ کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔