اتر پردیش: آگ لگائے جانے کے بعد اسکوٹر چلاکر اسپتال پہنچنے والی خاتون جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع فرخ آباد میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں 33 سالہ شادی شدہ خاتون کو ایک شخص اور اس کے ساتھیوں نے آگ لگا دی۔
خاتون جان بچانے کے لیے اپنے اسکوٹر پر سوار ہو کر ڈاکٹر کے کلینک پہنچی لیکن زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔ پولیس کے مطابق واقعہ 6 اگست کو پیش آیا۔
ہلاک ہونے والی خاتون کی شناخت نشا سنگھ کے نام سے ہوئی ہے۔ نِشا اپنے والد کے گھر آئی ہوئی تھی اور ڈاکٹر کے پاس جا رہی تھی کہ اس دوران ملزم دیپک نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اسے روک کر جھگڑا کیا اور پھر آگ لگا دی۔
یہ بھی پڑھیے: بھارت میں خاتون ڈاکٹر کے ریپ اور قتل کے بعد نرس بھی زیادتی کا شکار
پولیس افسر سنجے کمار نے بتایا کہ متاثرہ کے والد بلرام سنگھ نے شکایت درج کرائی ہے کہ ان کی بیٹی کو دیپک اور اس کے ساتھیوں نے زندہ جلایا۔
متاثرہ کی بہن نیتو سنگھ نے کہا کہ وہ دیپک کی ہراسانی سے واقف تھی لیکن یہ بات والدین سے چھپائی گئی۔ وہ مجھے کہتی تھی کہ دیپک تنگ کرتا ہے اور بات کرنے کے لیے دباؤ ڈالتا ہے۔ لیکن اس نے کبھی ماں کو نہیں بتایا۔
پولیس نے واقعے کی ایف آئی آر درج کر کے چار ٹیمیں تشکیل دی ہیں تاکہ ملزم اور اس کے ساتھیوں کو جلد گرفتار کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آگ بھارت خاتون ہراسانی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔