پاکستانی حدود کی بندش سے بھارتی پروازوں کا کتنا نقصان ہوا؟ اعداد و شمار سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
کراچی:
مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام کے واقعے کے بعد بھارتی پروازوں کے لیے پاکستانی فضائی حدود کی بندش بدستور جاری ہے اور بھارتی پروازوں کو شدید مشکلات اور نقصان کا سامنا ہے، جس کے اعداد و شمار بھی سامنے آگئے ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بھارتی پروازوں کے لیے پاکستانی فضائی حدود کی بندش کو 10 روز گزر چکے ہیں اور اس دوران 1150 بھارتی پروازیں متاثر ہوئی ہیں اور بھارتی ائیرلائنز کو گزشتہ 10 روز میں 225 کروڑ بھارتی روپے سے زائد نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
فضائی حدود کی بندش سے ائیرانڈیا، آکاسا ائیر، اسپائس جیٹ، انڈیگو ائیر، ائیرانڈیا ایکسپریس کی پروازیں متاثر ہوئی ہیں کیونکہ بھارتی طیاروں کو آدھے بھارت سے ہوکر بحیرہ عرب سے جانا پڑ رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بھارتی ائیرلائنز کی طویل روٹس سے گزرنے پر فیول اور دیگر آپریشنل اخراجات دگنے ہونے پر مالی نقصان نے چیخیں نکال دی ہیں اور سب سے زیادہ ایئر انڈیا کو جھٹکا لگا ہے۔
پاکستان کی فضائی حدود بند ہونے سے انڈیگو ائیرکو بھی بھاری نقصان کا سامنا ہے، انڈیگوائیر کا الماتی تاشقند سمیت دیگر وسط ایشیائی ممالک کے لیے فلائٹ آپریشن بدستور بند ہے۔
اسی طرح امرتسر، دہلی، ممبئی، احمد آباد اور بنگلور سمیت دیگر شہروں سے جانے والی بھارت کی تمام ائیرلائنز کو یومیہ کروڑوں روپے کا نقصان سامنا ہے، پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے دہلی، ممبئی، امرتسر، بنگلور اور احمد آباد سے امریکا، یورپ اور برطانیہ کی بھارتی ائیرلائنز کی پروازوں کو ڈائیورٹ کیا جا رہا ہے۔
امریکا جانے والی بھاتی پروازوں کے عملے کو یورپ میں تبدیل کرنا پڑ رہا ہے، دو بار لینڈنگ اور ری فیولنگ سے بھارتی ائیرلائنز کو ایئرپورٹ چارجز کی مد میں بھی یومیہ کروڑوں کے نقصان کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق بھارتی مسافر بھارتی ائیرلائنز کے بجائے دیگر ملکوں کی فلائٹس کو ترجیح دینے لگے ہیں اور دہلی، ممبئی، امرتسر احمد سے امریکا برطانیہ یورپ کی پروازوں کا دورانیہ 10 گھنٹے سے تجاوز ہونے پر بھارتی مسافروں کی مودی سرکار کے خلاف پھٹ پڑے۔
بھارتی مسافروں کو بھارتی ائیرلائنز سے پروازیں منسوخ ہونے پر ریفنڈز ملنے میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان نے ابتدائی طور ہر 23 اپریل سے 23 مئی تک ایک ماہ کے لیے بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ 2019 میں پاکستان کی فضائی حدود کی بندش سے بھارتی ایرلائنز کو 700 کروڑ بھارتی روپے کا جھٹکا لگا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فضائی حدود کی بندش بھارتی ائیرلائنز حدود کی بندش سے بھارتی پروازوں نقصان کا سامنا سامنا ہے ہیں اور رہا ہے کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔