وزارت تجارت کا بڑا اقدام: بھارتی مصنوعات پاکستان کی زمینی، فضائی یا سمندری راستے سے نہیں گزرسکیں گی
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
وزارت تجارت نے بڑا اقدام کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی مصنوعات پاکستان کی زمینی,فضائی یا سمندری راستے سے نہیں گزرسکیں گی، امپورٹ ایکسپورٹ ایکٹ 1950 کے تحت ایس آر او جاری کردیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق قومی سلامتی اور عوامی مفاد کے پیشِ نظر بھارتی ساختہ مصنوعات کی پاکستانی حدود سے ترسیل پر پابندی عائد کردی۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے بھارت میں تیار کردہ اشیاء کی تیسرے ممالک کے ذریعے بذریعہ سمندر، زمین یا فضائی راستے پاکستان سے گزرنے والی درآمدات پر پابندی کردی جس کے تحت بھارت سے تیسرے ممالک کی بذریعہ سمندر، زمین یا فضائی راستے پاکستان سے گزرنے والی درآمدات پر پابندی ہوگی۔
ان بھارتی درآمدات/برآمدات پر احکامات لاگو نہیں ہوں گی جن کے لیے بل آف لیڈنگ (B/L) یا لیٹر آف کریڈٹ (L/C) 4 مئی سے قبل جاری یا قائم کیا گیا ہو۔
پاکستان نے اپنی زمینی فضائی اور سمندری حدود کو بھارتی امپورٹ اور ایکسپورٹ کے لیے بند کردیا، کسی تیسرے ملک سے بھی بھارتی درآمدی اور برآمدی مصنوعات کی پاکستانی فضائی، سمندری یا زمینی حدود سے گزرنے پر پابندی ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پر پابندی
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔