’’نقصان تمہارا ہی ہے!‘‘ فرحان سعید کا بھارتیوں کو پیغام
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
پاکستان کے مقبول اداکار فرحان سعید نے بھارتی علاقے پہلگام میں پیش آنے والے واقعے پر بھارتی عوام سے اظہار ہمدردی کیا تھا، تاہم اب انہوں نے بھارتی حکومت کے پاکستانی فنکاروں کے ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا چینلز پر پابندی کے فیصلے پر دلچسپ انداز میں اپنا ردعمل دیا ہے۔
پاکستان کے مقبول اداکار اور گلوکار فرحان سعید اپنی بہترین اداکاری اور دلکش آواز کی وجہ سے پاکستان سمیت سرحد پار بھارت میں بھی خاصے پسند کیے جاتے ہیں۔ اُڈاری، سنو چندا، پریم گلی اور میرے ہمسفر جیسے ڈراموں سے شہرت حاصل کرنے والے فنکار ان دنوں ڈرامہ شیریں فرہاد میں اپنی شاندار پرفارمنس سے ناظرین کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد 40 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔
فرحان سعید نے اپنے انسٹاگرام پر لکھا:
’’بات جنگ سے شروع ہو کر ہائی اسکول والی بلاکنگ پر آگئی ہے! یہ آپ کا نقصان ہے۔ ان تمام بھارتی مداحوں کو محبت بھیجتا ہوں جو اس پابندی کا شکار بنے، اور دعا کرتا ہوں کہ سمجھداری غالب آئے تاکہ آپ اپنے پسندیدہ فنکاروں کو دوبارہ دیکھ سکیں۔‘‘
فرحان کے اس پیغام پر سوشل میڈیا پر مداحوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل دیکھنے کو ملا۔ کئی لوگ ان کے انداز کو دلچسپ اور پرامن قرار دے رہے ہیں، تو کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستانی فنکاروں کو چاہیے کہ وہ بھارت کے جھوٹے پروپیگنڈے اور جھوٹے فلیگ آپریشنز کو بے نقاب کریں۔
ادھر بھارتی مداح بھی پیچھے نہیں رہے۔ پابندی کے باوجود کئی افراد نے VPN کے ذریعے ’’شیریں فرہاد‘‘ کو دیکھنا جاری رکھا اور اس کے اسکرین شاٹس فرحان سعید کو بھیجے، جنہیں اداکار نے خود سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔
فرحان سعید کا یہ انداز جہاں ایک طرف مزاح سے بھرپور ہے، وہیں دوسری طرف یہ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ فن، سرحدوں کا محتاج نہیں ہوتا اور مداح اپنے پسندیدہ فنکار تک پہنچنے کا راستہ خود بنا لیتے ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔