نئے امریکی ٹیرف پاکستان کے لیے خطرہ یا سنہری موقع؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 04 مئی 2025ء) سن 2024 میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ تجارت کا حجم 7.3 ارب ڈالر رہا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 29 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے اعلان کے بعد، اگرچہ اس فیصلے کو 90 روز کے لیے مؤخر کر دیا گیا، لیکن تمام ممالک کے لیے 10 فیصد کا بنیادی ٹیرف برقرار ہے۔
امریکی دفتر برائے تجارت کے مطابق پاکستان نے سن 2024 میں 5.
ماہر معاشیات ڈاکٹر احمد اعجاز ملک کے مطابق امریکی برآمدات پر فوری طور پر کوئی بڑا اثر متوقع نہیں ہے۔
(جاری ہے)
تاہم عالمی معاشی سست روی کی صورت میں پاکستانی صنعت اور معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔
معاشی تجزیہ کار شہباز رانا کا کہنا ہے کہ آن لائن کاروبار کرنے والے پاکستانی تاجر زیادہ تر مصنوعات چین سے درآمد کرتے ہیں تو فی الحال اس کا اثر صارفین تک منتقل نہیں ہو گا۔
لیکن امریکی مارکیٹ میں مہنگائی سے قوتِ خرید کم ہونے کی صورت میں عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے چینی سمارٹ فونز اور الیکٹرانک مصنوعات کو نئے امریکی محصولات سے مستثنیٰ رکھنا تجارتی معاہدوں میں گنجائش کی طرف اشارہ ہے۔
تاجر برادری کو درپیش مشکلاتراولپنڈی کے تاجر محمد خرم شہزاد کے مطابق پاکستانی تاجر دو بڑے چیلنجز سے نبردآزما ہیں: ایک طرف امریکی پالیسیوں سے پیدا ہونے والی پیچیدگیاں (جیسے سخت کسٹمز ضوابط، وقت کی پابندیاں اور انوینٹری پر انحصار) اور دوسری طرف بڑھتے ہوئے لاجسٹکس اخراجات ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مصنوعات کی تیاری کے مقام کی لازمی نشاندہی، جیسے عوامل میکسیکو جیسے ممالک کو پاکستان پر برتری دلا سکتے ہیں۔ سستی چینی مصنوعات کی ممکنہ یلغاراس صورت حال میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین محمد جاوید حنیف خان نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر چین کی امریکی برآمدات کم ہوئیں تو وہ پاکستان جیسے ممالک کی منڈیوں کی طرف رخ کر سکتا ہے اور اس سے سستی چینی مصنوعات کی یلغار مقامی صنعت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
انہوں نے حکومت سے اس کے خلاف پیشگی حکمتِ عملی تیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ متبادل شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورتڈاکٹر احمد اعجاز ملک نے زور دیا کہ پاکستان کو معاشی پالیسیوں کا جائزہ لے کر متبادل شعبوں، خصوصاً آئی ٹی اور خدمات، کو فروغ دینا چاہیے۔ فی الحال ٹیکسٹائل مصنوعات پاکستان کی سب سے بڑی برآمدات ہیں لیکن کم قیمت کی وجہ سے مستقبل میں چین یا دیگر ممالک اس کی جگہ لے سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکی منڈی میں خدمات، خاص طور پر آئی ٹی اور انٹیلی جنس، کی بڑی طلب موجود ہے، جس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
محمد جاوید حنیف نے بھی برآمدات کے معیار اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
ای-کامرس اور نئی حکمتِ عملی کی ضرورتمحمد خرم شہزاد نے تجویز دی کہ پاکستان کو ایک جامع ای-کامرس حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے، جس میں سپلائرز کے تنوع، برآمدی فنانسنگ، ڈیجیٹل مہارتوں، لاجسٹکس کی بہتری اور عالمی معیار کی کسٹمز اصلاحات کو شامل کیا جائے۔
ان کا زور دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ''میک اِن پاکستان‘‘ برانڈ کی عالمی سطح پر پذیرائی اور پبلک-پرائیویٹ شراکت داری سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو عالمی منڈی میں مقابلے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔
سفارتی و تجارتی توازن ضروریراولپنڈی چیمبر آف کامرس کے صدر عثمان شوکت کہتے ہیں کہ حکومت پاکستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کے کاروباری ادارے امریکی حکام سے منصفانہ تجارت کی درخواست کر رہے ہیں تاکہ پاکستان کو ٹیرف فہرست سے خارج کیا جائے۔
اسی طرح بین الاقوامی تعلقات کی ماہر ڈاکٹر سعدیہ سلمان نے تجویز دی کہ پاکستان امریکہ اور چین کے ساتھ متوازن تعلقات استوار کرتے ہوئے عالمی برادری کے سامنے خود کو ایک مستحکم اور اصلاح پسند معیشت کے طور پر پیش کرے۔
ادارت: امتیاز احمد
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کہ پاکستان سکتے ہیں کی ضرورت کے لیے
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔