امریکہ نے دنیا کے 70 ممالک پر درآمدی ٹیرف کی فہرست جاری کی ہے، جس میں پاکستان جنوبی ایشیا کا واحد ملک ہے جس پر نسبتاً کم ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔
امریکی حکومت کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ فہرست کے مطابق پاکستان کی مصنوعات پر 19 فیصد جوابی ٹیرف عائد کیا گیا ہے، جب کہ بھارت پر 25 اور بنگلہ دیش پر 20 فیصد ٹیرف نافذ کیا گیا ہے۔ دیگر ایشیائی ممالک جیسے سری لنکا، ویتنام اور تائیوان بھی 20 فیصد ٹیرف کی زد میں ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ 19 فیصد ٹیرف کے نفاذ کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو امریکہ کو بھیجی جانے والی مصنوعات پر 19 فیصد اضافی ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ اس اقدام کا سب سے زیادہ اثر پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر پر پڑے گا، جو ملک کی کل برآمدات کا تقریبا 60 فیصد ہے۔ پاکستان امریکہ کو چمڑے کی مصنوعات، فرنیچر، پلاسٹک، سلفر، نمک، سیمنٹ، کھیلوں کا سامان، قالین، فٹ ویئر اور دیگر اشیا برآمد کرتا ہے۔

امریکہ پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کا سب سے بڑا خریدار ہے، اور پاکستان کو اس شعبے میں بھارت، بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے ممالک سے شدید مقابلے کا سامنا ہے، جن پر زیادہ ٹیرف عائد کیے گئے ہیں۔ نئے ٹیرف کی بدولت پاکستان کو اس بات کا فائدہ ہو سکتا ہے کہ وہ کم ٹیرف کے ساتھ امریکہ میں اپنے ٹیکسٹائل کی مصنوعات کو بنگلادیش اور دیگر حریفوں پر سبقت لے کر فروخت کرے۔

پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے مطابق، نئے ٹیرف کے نفاذ کے بعد امریکہ میں پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات قدرے سستی ہو سکتی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کے برآمد کنندگان اس موقع سے کس طرح فائدہ اٹھا پائیں گے؟

پاکستان نے 2024-25 میں امریکہ کو تقریباً 4.

4 بلین ڈالر مالیت کی مصنوعات برآمد کیں، جن میں ٹیکسٹائل کا بڑا حصہ تھا۔ امریکہ سے پاکستان کی درآمدات کا حجم اس سے کم تھا، جو تقریباً 2.14 بلین ڈالرز تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم تقریباً 7.3 بلین ڈالر تھا۔

پاکستان جنوبی ایشیا میں سب سے کم امریکی ٹیرف رکھنے والا ملک بن کر ابھرا ہے۔ ابتدائی طور پر امریکہ نے پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے بعد اس ٹیرف کو 19 فیصد کر دیا گیا۔

پاکستان میں اس فیصلے کا خیرمقدم کیا گیا، اور وزیرِ اعظم پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے “شکرگزاری کا موقع” قرار دیا۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ تجارتی معاہدہ توانائی، معدنیات، آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں اقتصادی تعاون کے نئے دور کا آغاز کرے گا۔

امریکی سفارت خانہ نے اس تجارتی معاہدے کو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا ہے، اور کہا کہ امریکہ اس شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے۔

 

Post Views: 9

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کی مصنوعات ٹیرف عائد فیصد ٹیرف کیا گیا

پڑھیں:

پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2 جون 2026 کے لیے مختلف عالمی کرنسیوں کے پاکستانی روپے کے مقابلے میں تازہ ریٹس جاری کر دیے ہیں۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی ڈالر اپنی سابقہ سطح کے قریب برقرار ہے جبکہ برطانوی پاؤنڈ، یورو اور خلیجی ممالک کی کرنسیاں بھی مستحکم رجحان دکھا رہی ہیں۔

امریکی ڈالر کی قیمت
اسٹیٹ بینک کے مطابق امریکی ڈالر کی انٹربینک شرح 278.46 روپے رہی۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق ڈالر کی قیمت گزشتہ کئی ماہ سے 278 سے 280 روپے کے درمیان گردش کر رہی ہے، جس سے زرمبادلہ مارکیٹ میں استحکام کا تاثر مل رہا ہے۔

سعودی ریال اور اماراتی درہم
سعودی ریال 74.19 روپے جبکہ متحدہ عرب امارات کا درہم 75.82 روپے پر برقرار رہا۔ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے باعث ان کرنسیوں کی اہمیت پاکستانی معیشت کے لیے بہت زیادہ ہے۔

یورو اور برطانوی پاؤنڈ
یورو کی قیمت 324.40 روپے جبکہ برطانوی پاؤنڈ 375.18 روپے ریکارڈ کیا گیا۔ یورپ اور برطانیہ میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ اور وہاں مقیم پاکستانی خاندانوں کے لیے ان کرنسیوں کی قیمتیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔

دیگر اہم کرنسیاں
کینیڈین ڈالر 201.19 روپے، آسٹریلوی ڈالر 200.03 روپے، قطری ریال 76.39 روپے، بحرینی دینار 738.61 روپے اور کویتی دینار 907.63 روپے کی سطح پر رہا، جو بدستور پاکستانی روپے کے مقابلے میں سب سے مہنگی کرنسیوں میں شامل ہے۔

آج کے نمایاں کرنسی ریٹس

امریکی ڈالر: 278.46 روپے
سعودی ریال: 74.19 روپے
اماراتی درہم: 75.82 روپے
قطری ریال: 76.39 روپے
یورو: 324.40 روپے
برطانوی پاؤنڈ: 375.18 روپے
کینیڈین ڈالر: 201.19 روپے
آسٹریلوی ڈالر: 200.03 روپے
کویتی دینار: 907.63 روپے
بحرینی دینار: 738.61 روپے
عمانی ریال: 723.26 روپے

ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں روپے کی قدر کا انحصار ترسیلات زر، زرمبادلہ ذخائر، درآمدی ادائیگیوں اور عالمی مالیاتی رجحانات پر ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
  • سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز