پاکستان پر 19 فیصد امریکی ٹیرف کامطلب کیا ؟ زیادہ اثر کون سے شعبے پرپڑے گا؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
امریکہ نے دنیا کے 70 ممالک پر درآمدی ٹیرف کی فہرست جاری کی ہے، جس میں پاکستان جنوبی ایشیا کا واحد ملک ہے جس پر نسبتاً کم ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔
امریکی حکومت کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ فہرست کے مطابق پاکستان کی مصنوعات پر 19 فیصد جوابی ٹیرف عائد کیا گیا ہے، جب کہ بھارت پر 25 اور بنگلہ دیش پر 20 فیصد ٹیرف نافذ کیا گیا ہے۔ دیگر ایشیائی ممالک جیسے سری لنکا، ویتنام اور تائیوان بھی 20 فیصد ٹیرف کی زد میں ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 19 فیصد ٹیرف کے نفاذ کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو امریکہ کو بھیجی جانے والی مصنوعات پر 19 فیصد اضافی ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ اس اقدام کا سب سے زیادہ اثر پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر پر پڑے گا، جو ملک کی کل برآمدات کا تقریبا 60 فیصد ہے۔ پاکستان امریکہ کو چمڑے کی مصنوعات، فرنیچر، پلاسٹک، سلفر، نمک، سیمنٹ، کھیلوں کا سامان، قالین، فٹ ویئر اور دیگر اشیا برآمد کرتا ہے۔
امریکہ پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کا سب سے بڑا خریدار ہے، اور پاکستان کو اس شعبے میں بھارت، بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے ممالک سے شدید مقابلے کا سامنا ہے، جن پر زیادہ ٹیرف عائد کیے گئے ہیں۔ نئے ٹیرف کی بدولت پاکستان کو اس بات کا فائدہ ہو سکتا ہے کہ وہ کم ٹیرف کے ساتھ امریکہ میں اپنے ٹیکسٹائل کی مصنوعات کو بنگلادیش اور دیگر حریفوں پر سبقت لے کر فروخت کرے۔
پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے مطابق، نئے ٹیرف کے نفاذ کے بعد امریکہ میں پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات قدرے سستی ہو سکتی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کے برآمد کنندگان اس موقع سے کس طرح فائدہ اٹھا پائیں گے؟
پاکستان نے 2024-25 میں امریکہ کو تقریباً 4.
پاکستان جنوبی ایشیا میں سب سے کم امریکی ٹیرف رکھنے والا ملک بن کر ابھرا ہے۔ ابتدائی طور پر امریکہ نے پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے بعد اس ٹیرف کو 19 فیصد کر دیا گیا۔
پاکستان میں اس فیصلے کا خیرمقدم کیا گیا، اور وزیرِ اعظم پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے “شکرگزاری کا موقع” قرار دیا۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ تجارتی معاہدہ توانائی، معدنیات، آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں اقتصادی تعاون کے نئے دور کا آغاز کرے گا۔
امریکی سفارت خانہ نے اس تجارتی معاہدے کو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا ہے، اور کہا کہ امریکہ اس شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے۔
Post Views: 9
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کی مصنوعات ٹیرف عائد فیصد ٹیرف کیا گیا
پڑھیں:
راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے راس ایکسپو 2026 کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان روبوٹکس، آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور حکومت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی جامعات، اساتذہ، طلبہ، صنعت اور مختلف ادارے مل کر ایک ایسا مضبوط ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) تشکیل دے رہے ہیں، جو پاکستان کو روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 2 روز کے دوران منعقد ہونے والی راس ایکسپو میں جدید ٹیکنالوجی کے متعدد نمونے پیش کیے گئے۔ نمائش میں صنعتی آٹومیشن، مکینیکل روبوٹس، خودکار نظام، دفاعی شعبے کے جدید آلات، فوجی ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس، نیویگیشن سسٹمز اور جدید سمیولیٹرز نے شرکاء کی توجہ حاصل کی۔
شزا فاطمہ نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی اس نوعیت کی نمائشوں کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں، تعلیمی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میسر آ سکے اور پاکستان میں ٹیکنالوجی پر مبنی صنعت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایکسپو کے دوران دو اہم اعلانات بھی کیے، جن میں روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 20 ملین ڈالر کی معاونت شامل ہے۔ اس کے علاوہ صنعت کے لیے ایسے سمیولیٹرز تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، جن کی مدد سے کاروباری ادارے اپنی پیداواری سرگرمیوں کا عملی جائزہ لے سکیں اور آٹومیشن کے معاشی فوائد کا اندازہ لگا سکیں۔
وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جدید مشینیں انسانوں کی ملازمتیں ختم کر دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی ملازمتیں ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت تبدیل کرتی ہے۔ مستقبل میں ایسے افراد کی ضرورت ہوگی جو روبوٹس اور جدید مشینوں کو تیار کرنے، چلانے اور ان کی دیکھ بھال کی مہارت رکھتے ہوں۔
انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ریاضی، الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے شعبوں کا انتخاب کریں، کیونکہ مستقبل کی معیشت انہی مہارتوں پر استوار ہوگی۔ شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ پاکستان کی معیشت، صنعت اور قومی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
شزا فاطمہ وفاقی وزیر