ٹرمپ کی نئی تجارتی پالیسی یورپ کی صنعتوں کے لیے کڑا امتحان، اثرات یورپ بھر کی صنعتوں نے محسوس کرنا شروع کر دیئے
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
لندن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 01 اگست2025ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جمعہ کو عائد ہونے والے نئے ٹیرف نظام کے اثرات یورپ بھر کی صنعتوں نے محسوس کرنا شروع کر دیئے ہیں،کئی کمپنیوں نے اشیاء کی ترسیل روک دی ہے، کچھ نے قیمتیں بڑھا دی ہیں جبکہ کئی کو منافع میں کمی کا سامنا ہے اور کئی کاروباری اداروں کو خدشہ ہے کہ وہ شاید برقرار نہ رہ سکیں۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکہ جمعہ سے زیادہ تر یورپی مصنوعات پر 15 فیصد ٹیرف عائد کر رہا ہے جو کہ عالمی تجارت کی تشکیل نو کی بڑی مہم کا حصہ ہے، اگرچہ یہ شرح ان بلند ترین دھمکی آمیز سطحوں سے کم ہے لیکن 1930 کی دہائی کے بعد بلند ترین ٹیرف ہیں۔انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل اینڈریو ولسن نے کہاکہ کمپنیاں اب بیدار ہو رہی ہیں کہ ہمیں ایک تاریخی حد تک بلند ٹیرف شرح کا سامنا ہے، یہ صورت حال شاید صرف اسی وقت بدلے گی اگر امریکی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں۔(جاری ہے)
انہوں نے مزید کہا کہ تجارتی روابط میں شپمنٹ میں تاخیر اور سپلائی چین اسٹریٹیجی پر نظرثانی جیسے رجحانات سامنے آ رہے ہیں، اب امریکہ سے تجارت کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے، اس کی پیچیدگی ناقابل تصور حد تک پہنچ گئی ہے۔ جرمنی کے جوہانس سیل باخ نے کہاکہ یہ ٹیرف بحر اوقیانوس کے دونوں کناروں پر انڈسٹری کے لیے نقصان دہ ہیں، ہم ’’زیرو فار زیرو‘‘ ٹیرف کی امید کر رہے تھے لیکن فی الحال 15 فیصد کا سامنا ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ لگژری برانڈز کو نسبتاً کم نقصان کا سامناہے کیونکہ وہ اپنی قیمتیں بڑھا سکتے ہیں،بڑی کمپنیاں کسی حد تک منافع میں کمی برداشت کر سکتی ہیں یا پیداوار کا کچھ حصہ امریکہ منتقل کر سکتی ہیں۔کنزیومر جائنٹس جیسے پراکٹر اینڈ گیمبل نے پہلے ہی قیمتوں میں اضافہ کا اشارہ دے دیا ہے جبکہ ایڈیڈاس نے بھی قیمتیں بڑھانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔رائٹرز کے عالمی ٹیرف ٹریکر کے مطابق تقریباً 300 کمپنیوں میں سے 99 کمپنیوں نے ٹیرف جنگ کے ردعمل میں قیمتیں بڑھانے کا اعلان کیا ہے جن میں اکثریت یورپی کمپنیوں کی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی نئی تجارتی پالیسی یورپ کی صنعتوں کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے، ٹیرف کے بڑھتے اثرات سے بچنے کے لیے کمپنیاں قیمتیں بڑھا رہی ہیں، شپمنٹ مؤخر کر رہی ہیں، یا پیداوار کا رخ موڑ رہی ہیں تاہم چھوٹے کاروبار اور مخصوص شعبے بدترین دباؤ کا شکار ہیں جنہیں آنے والے دنوں میں وجودی خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔\932.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کی صنعتوں کا سامنا رہی ہیں کے لیے
پڑھیں:
میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
دنیا کے سب سے مقبول کھیل فٹبال کا سب سے بڑا ایونٹ، فیفا ورلڈ کپ 2026، 12 جون سے امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں شروع ہو رہا ہے۔ اس بار ٹورنامنٹ کئی حوالوں سے تاریخ ساز ثابت ہونے جا رہا ہے، کیونکہ پہلی مرتبہ 48 قومی ٹیمیں عالمی اعزاز کے حصول کے لیے میدان میں اتریں گی جبکہ مجموعی طور پر 1248 کھلاڑی اس عظیم مقابلے کا حصہ ہوں گے۔
1248 players. 48 nations. Locked in. ????
The Official Squad Lists for #FIFAWorldCup 2026 are here ⤵️
— FIFA World Cup (@FIFAWorldCup) June 2, 2026
فیفا کی جانب سے تمام 48 ٹیموں کے حتمی اسکواڈز کی منظوری کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ورلڈ کپ 2026 کھلاڑیوں، ٹیموں اور میچوں کی تعداد کے اعتبار سے تاریخ کا سب سے بڑا فٹبال ٹورنامنٹ ہوگا۔ ایونٹ میں شریک ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ میں چار چار ٹیمیں شامل ہیں۔ مجموعی طور پر 104 میچز کھیلے جائیں گے، جو سابقہ ورلڈ کپ ایڈیشنز کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:فیفا ورلڈ کپ: امریکا نے ایرانی فٹبال ٹیم کو قیام کی اجازت نہیں دی، ٹیم میکسیکو میں رہے گی
میڈیا رپورٹس کے مطابق 1248 کھلاڑیوں میں سے 357 ایسے ہیں جو پہلے بھی ورلڈ کپ کھیل چکے ہیں، جبکہ 891 کھلاڑی پہلی مرتبہ اس عالمی اسٹیج پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔ ماہرین کے مطابق نئے اور تجربہ کار کھلاڑیوں کا یہ امتزاج ٹورنامنٹ کو مزید دلچسپ اور غیر متوقع بنا سکتا ہے۔
World Cup is exactly TWO weeks away. ???? #FIFA pic.twitter.com/NFDxw8uKlO
— World Cup 2026 (@WorldCupMedia) May 28, 2026
بین الاقوامی میڈیا نے ورلڈ کپ 2026 کو ’فٹبال کی تاریخ کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ جامع عالمی مقابلہ‘ قرار دیا ہے۔ عالمی نشریاتی اداروں کا کہنا ہے کہ ٹیموں کی تعداد میں اضافے سے نہ صرف مقابلہ زیادہ سخت ہوگا بلکہ دنیا کے نئے خطوں اور ابھرتی ہوئی فٹبال قوموں کو بھی عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملے گا۔
اس ورلڈ کپ کی ایک اور نمایاں خصوصیت عالمی فٹبال کے دو عظیم ترین ستاروں، لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو، کی ممکنہ تاریخی شرکت ہے۔ دونوں کھلاڑی اپنے چھٹے ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے تیار ہیں۔ میکسیکو کے تجربہ کار گول کیپر گیلرمو اوچوا بھی چھٹی مرتبہ ورلڈ کپ کھیلنے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہیں، جو عالمی فٹبال میں ایک منفرد ریکارڈ تصور کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا
ورلڈ کپ 2026 کئی نئی قومی ٹیموں کے لیے بھی یادگار ثابت ہوگا۔ کیپ ورڈے، کوراساؤ، اردن اور ازبکستان پہلی بار فیفا ورلڈ کپ کے فائنل مرحلے میں پہنچے ہیں۔ ان ٹیموں کی شمولیت کو فٹبال کی عالمی توسیع اور کھیل کے بڑھتے ہوئے دائرہ اثر کا ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
عمر کے اعتبار سے بھی اس بار ٹورنامنٹ منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ ایونٹ میں شامل سب سے کم عمر کھلاڑی کی عمر صرف 17 برس ہے جبکہ سب سے عمر رسیدہ کھلاڑی 43 سال کے ہیں۔ ٹورنامنٹ میں 7 ایسے کھلاڑی شریک ہیں جن کی عمر 40 برس سے زیادہ ہے، جبکہ 22 کھلاڑی 20 سال سے کم عمر ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار نوجوان ٹیلنٹ اور تجربے کے دلچسپ امتزاج کی عکاسی کرتے ہیں۔
The 2026 FIFA World Cup ???? ⚽ is making its triumphant return to North America, sparking huge excitement across the continent for the world's biggest football tournament, which kicks off on June 11 in Mexico.
Here's your quick guide ????https://t.co/li1RCedN1h
— TRT World (@trtworld) June 1, 2026
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی نہ صرف شمالی امریکا میں فٹبال کی مقبولیت کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی بلکہ عالمی سطح پر بھی کھیل کی تجارتی اور ثقافتی اہمیت میں اضافہ کرے گی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ ٹورنامنٹ ناظرین، آمدنی اور ڈیجیٹل رسائی کے کئی نئے ریکارڈ قائم کرے گا۔
فٹبال شائقین کی نظریں اب 12 جون پر مرکوز ہیں، جب دنیا بھر کی 48 بہترین ٹیمیں عالمی اعزاز کے لیے اپنی مہم کا آغاز کریں گی اور تاریخ کے سب سے بڑے فیفا ورلڈ کپ کا باقاعدہ افتتاح ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رونالڈو فٹبال ورلڈ کپ 2026 فیفا ورلڈ کپ میسی