یوکرین نے روس کا جدید ترین طیارہ تباہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
یوکرین(نیوز ڈیسک)یوکرین کی جانب سے روس کے جنگی طیارے کو مار گرانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ یہ دنیا میں سمندری ڈرون سے جنگی طیارے کو گرانے کا پہلا واقعہ ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مبطابق یوکرینی فوجی انٹیلی جنس ایجنسی جی یو آر نے گزشتہ روز بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ایک روسی Su-30 جنگی طیارے کو سمندری ڈرون سے داغے گئے میزائل کے ذریعے تباہ کر دیا ہے، جو اس کے مطابق دنیا میں پہلی بار کسی بحری ڈرون کے ذریعے جنگی طیارے کو نشانہ بنانے کا واقعہ ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن روسی بندرگاہی شہر نووروسیسک سے تقریباً 50 کلومیٹر مغرب میں واقع سمندری علاقے میں کیا گیا۔
انٹیلی جنس ایجنسی نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ یہ آپریشن روسی بندرگاہی شہر نووروسیسک سے تقریباً 50 کلومیٹر مغرب میں واقع سمندری علاقے میں کیا گیا۔
روسی وزارتِ دفاع نے یوکرین کے حملہ کرنے کے دعوے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم وزارت دفاع امور سے آگاہ ایک روسی بلاگر نے اس دعوے کی تصدیق کی ہے۔
دوسری جانب روس کے مقامی حکام نے بتایا کہ یوکرینی ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک اناج ٹرمینل اور متعدد رہائشی عمارتیں متاثر ہوئیں۔
بھارت کی جانب سے ابھی خطرہ کم نہیں ہوا: وزیر دفاع
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: جنگی طیارے کو
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔