لاہور آج دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
— فائل فوٹو
عالمی ماحولیاتی ادارے نے لاہور کو آج دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار دے دیا جبکہ کراچی پانچویں نبمر پر رہا۔
عالمی ماحولیاتی ویب سائٹ کے مطابق لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 540 ریکارڈ کیا گیا۔
عالمی ماحولیاتی ویب سائٹ کے مطابق لاہور کے کئی علاقوں میں فضائی معیار خطرناک حد تک خراب رہا۔ لاہور کے علاقے ساندہ روڑ پر اے کیو آئی890 اور ظہور الہٰی روڈ پر 784 ریکارڈ کیا گیا۔
اس کے علاوہ جی سی یونیورسٹی روڈ پر اے کیو آئی 762 رہا جبکہ سید مراتب علی روڈ پر اے کیو آئی 752 ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری جانب عالمی ماحولیاتی ویب سائٹ کے مطابق کراچی کا فضائی معیار مضر صحت ہے۔ ایئر کوالٹی انڈیکس 163 کے ساتھ کراچی دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پانچویں نمبر پر ہے۔
عالمی ماحولیاتی ویب سائٹ کے مطابق 151 سے 200 انڈیکس مضر،201 سے 300 انتہائی مضر اور301 سے اوپر انڈیکس خطرناک ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: عالمی ماحولیاتی ویب سائٹ کے مطابق
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔