مصری سرکاری ذرائع کے مطابق یہ کانفرنس عالمی سطح پر ایک اہم موقع کے طور پر دیکھی جا رہی ہے جس کا مقصد فلسطینی عوام کے لیے انسانی و ترقیاتی ضروریات پوری کرنا اور ان کی مشکلات میں کمی لانا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مصر نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ماہ نومبر میں غزہ کی جلد بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔ یہ کانفرنس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ نام نہاد "علاقائی استحکام کے منصوبے” کے دوسرے مرحلے کا حصہ بتائی جا رہی ہے۔ مصری سرکاری ذرائع کے مطابق یہ کانفرنس عالمی سطح پر ایک اہم موقع کے طور پر دیکھی جا رہی ہے جس کا مقصد فلسطینی عوام کے لیے انسانی و ترقیاتی ضروریات پوری کرنا اور ان کی مشکلات میں کمی لانا ہے۔ ساتھ ہی کانفرنس میں عرب و اسلامی ممالک کی مشترکہ تعمیرِ نو کی حکمتِ عملی کو ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے امن منصوبے کے فریم ورک میں جوڑنے کی کوشش کی جائے گی۔ اطلاعات کے مطابق اس بین الاقوامی کانفرنس میں متعدد عرب و اسلامی ممالک، عالمی تنظیمیں اور مختلف مالیاتی ادارے شریک ہوں گے۔ اجلاس میں غزہ کی تباہ شدہ آبادیوں میں تعمیراتی منصوبوں، عوامی خدمات کی بحالی اور بنیادی ڈھانچے کے قیام کے لیے لائحہ عمل طے کیا جائے گا تاکہ تباہ شدہ علاقوں میں بتدریج زندگی بحال کی جا سکے اور فلسطینی علاقوں میں پائیدار استحکام پیدا ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ

وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈی

وزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔ 

دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔

پاک چین سرمایہ کاری، زراعت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے مفاہمت کی 15 یادداشتوں پر دستخط

اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ